السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في الحلف بصفات الله تعالى، كالعزة، والقدرة، والجلال، والكبرياء، والعظمة، والكلام، والسمع، ونحو ذلك باب: اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً عزت، قدرت، جلال، کبریائی، عظمت، کلام، سماعت اور اس جیسی دیگر صفات کی قسم کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19896
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفَانِ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُمَرِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَشْعَثَ الْقُرَشِيُّ، قَالَا: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: اعْهَدْ إِلِيَّ، فَقَالَ لَهُ: أَلَمْ يَأْتِكَ الْيَقِينُ؟ قَالَ: بَلَى، وَعِزَّةِ رَبِّي، قَالَ: " فَاعْلَمْ أَنَّ الضَّلَالَةَ حَقَّ الضَّلَالَةِ أَنْ تَعْرِفَ مَا كُنْتَ تُنْكِرُ، وَأَنْ تُنْكِرَ مَا كُنْتَ تَعْرِفُ، وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ، فَإِنَّ دِينَ اللهِ وَاحِدٌ ".حافظ ثناء اللہ
حمید بن ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے غلام نے مجھے بیان کیا کہ ابومسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”مجھ سے وعدہ لیں۔“ وہ کہنے لگے: ”کیا آپ کو یقین نہیں آیا؟“ کہتے ہیں: ”کیوں نہیں، میرے رب کی قسم!“ انہوں نے فرمایا: ”گمراہی کی پوری پہچان یہ ہے کہ جس (بات) کو آپ (پہلے) برا جانتے تھے، (اب) اسے پہچاننے لگیں اور جس کی (پہلے سے) پہچان ہے، اس کا انکار کرنے لگیں، اور مختلف آراء سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دین ایک ہی ہے۔“