السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في الحلف بصفات الله تعالى، كالعزة، والقدرة، والجلال، والكبرياء، والعظمة، والكلام، والسمع، ونحو ذلك باب: اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً عزت، قدرت، جلال، کبریائی، عظمت، کلام، سماعت اور اس جیسی دیگر صفات کی قسم کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى السُّدَّةَ - سُدَّةً بِالسُّوقِ - فَاسْتَقْبَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ أَهْلِهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا "، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى دَرَجَ الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: " يَا حَنْظَلَةُ أَتَرَى هَذَا يُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ، إِنَّ كُلَّ آيَةٍ كَفَّارَةٌ، أَوْ قَالَ: يَمِينٌ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ شُعْبَةُ: سُوَيْدُ بْنُ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ سُفْيَانُ: هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْظَلَةَ.حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن خویلد عنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ وہ سدہ (بازار کی اونچی جگہ) کے پاس آئے۔ وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کے اہل کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اس کی برائی اور اس کے اہل کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ پھر وہ مسجد کی سیڑھیوں پر آئے، انہوں نے ایک آدمی کو سنا، وہ قرآن کی قسم اٹھا رہا تھا، کہنے لگے: اے حنظلہ! کیا تو جانتا ہے اس پر قسم کا کفارہ ہے؟ ہر آیت کے عوض کفارہ ہے، یا فرمایا: ہر قسم کے عوض۔