حدیث نمبر: 19895
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَسَمَّاهُمْ لَنَا، نَسْأَلُهُ، عَنْ حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي سُؤَالِهِ، وَجَوَابِهِ، وَخُرُوجِهِمْ مِنْ عِنْدِهِ، وَدُخُولِهِمْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَكُمْ، قَالَ:، ثُمَّ قَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَجِيءُ فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا "، ⦗٧٤⦘ فَيُقَالُ لِي: " يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ، يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ "، فَأَقُولُ: " يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "، فَيَقُولُ: " لَيْسَ ذَلِكَ إِلَيْكَ، وَلَكِنِّي، وَعِزَّتِي، وَكِبْرِيَائِي، وَعَظَمَتِي، لَأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، زَادَ فِيهِ " وَجَلَالِي "، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ

معبد بن ہلال عنزی فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ وہ اہل بصرہ کے گروہ میں تھے، انہوں نے ہمارا نام بتایا تو ہم نے ان سے شفاعت والی حدیث کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے حدیث کا تذکرہ فرمایا، سوال و جواب اور ان کے پاس سے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حسن بن ابوالحسن کے پاس آنے کا تذکرہ کیا، حضرت فرمانے لگے: مجھے ویسے بیان کرو جیسے انہوں نے بیان کیا ہے، پھر کہنے لگے: نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں چوتھی مرتبہ آؤں گا اور اللہ کی تعریفیں بیان کروں گا، پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ مجھے کہا جائے گا: اے محمد ﷺ! اپنا سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی۔ سوال کرو دیا جائے گا، سفارش کرو قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھا ان کے بارے میں مجھے اجازت، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: یہ آپ کا کام نہیں، مجھے میری عزت و کبریائی اور عظمت کی قسم! میں ضرور ان کو نکالوں گا جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»