حدیث نمبر: 19894
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تُمَارُونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ "؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَهَلْ تُمَارُونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ "؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " وَيَبْقَى رَجُلٌ هُوَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَآخَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، يَقُولُ: ⦗٧٣⦘ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِيَ عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ "؟ فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيَصْرِفُ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَلَى الْجَنَّةِ، فَرَأَى بَهْجَتَهَا، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللهُ: " أَلَسْتَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ "؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ فَيَقُولُ: " هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ "، فَيَقُولُ: لَا، وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ، قَالَ:، ثُمَّ يَأْذَنُ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى "، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَ بِهِ قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " مِنْ كَذَا وَكَذَا، فَسَلْ " يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ، قَالَ اللهُ: " لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ مَعَهُ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَكَ ذَلِكَ، وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَيُّوبُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعِزَّتِكَ، لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ " وَفِي حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ جَهَنَّمَ، فَتَقُولُ: " قَطْ قَطْ، وَعِزَّتِكَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُغْمَسُ فِي الْجَنَّةِ: " فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ، يَقُولُ: " لَا وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سعید بن مسیب اور عطا بن یزید لیثی کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب عزوجل کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ بادل نہ ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بادل نہ ہونے کی صورت میں سورج کو دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔“ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جنت اور جہنم کے درمیان ایک آدمی رہ جائے گا اور یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہوگا۔“
اس کا چہرہ جہنم کی طرف ہوگا، وہ کہے گا: ”اے اللہ! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، اس کی حرارت میرے چہرے کو جھلس رہی ہے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو کیا تو کوئی اور سوال تو نہیں کرے گا؟“ وہ بندہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! آئندہ سوال نہ کروں گا۔“ وہ اللہ سے وعدہ کرے گا جو اللہ چاہے گا تو اللہ اس کا چہرہ جہنم سے پھیر دے گا۔ جب اس کا چہرہ جنت کی طرف کر دیا جائے گا تو وہ جنت کی رونقوں کو دیکھ کر جتنی دیر اللہ چاہے گا خاموش رہے گا، پھر عرض کرے گا: ”اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تو نے آئندہ سوال نہ کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہیں ہوں۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو کیا تو پھر کوئی سوال کرے گا؟“ وہ عرض کرے گا: ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! اب دوبارہ سوال نہ کروں گا۔“ اس نے حدیث ذکر کی۔ آخر میں ہے کہ جب اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تمنا کر۔“ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اس اس طرح کی تمنا کر۔“ اللہ اسے یاد دلاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی (تو اللہ فرمائے گا): ”یہ سب تیرے لیے ہے اور اس جتنا مزید بھی تیرے لیے ہے۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے لیے ہے اور اس کے برابر دس گنا مزید بھی۔“
(ب) ایوب علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے کہا: «بِعِزَّتِكَ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ» ”اے اللہ! تیری عزت کی قسم! ہم تیری برکت سے لاپرواہ نہیں ہیں۔“
(ج) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے جہنم کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے گی: «بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ» ”تیری عزت کی قسم! بس بس۔“
(د) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں بیان فرماتے ہیں، جسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا (یعنی سیر کروائی جائے گی) تو اس سے کہا جائے گا: ”کیا تو نے کبھی دنیا میں کوئی غم دیکھا؟“ وہ عرض کرے گا: ”تیری عزت و جلال کی قسم! میں نے کبھی کوئی غم نہیں دیکھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19894
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»