السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذي هو خير، وليكفر عن يمينه باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھی، تو وہ بہتر کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنَ، ثنا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ، قَالَ: ادْنُ فَكُلْ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ يَمِينِكَ هَذِهِ، قَالَ: فَدَنَوْتُ فَأَكَلْتُ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ: " لَا وَاللهِ، لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَمَا بَرِحْنَا حَتَّى أَتَتْهُ فَرَائِضُ غُرُّ الذُّرَى، فَأَمَرَ لَنَا مِنْهَا بِحِمْلَانِ، فَمَا بَرِحْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى قُلْنَا مَا صَنَعْنَا نَسَّيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللهِ لَا نُفْلِحُ قَالَ: فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، قَالَ: " مَا رَدَّكُمْ؟ "، قَالُوا: إِنَّكَ حَلَفْتَ أَلَّا تَحْمِلَنَا فَخَشِينَا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَنَا، وَخَشِينَا أَنْ نَكُونَ نَسَّيْنَاكَ يَمِينَكَ، قَالَ: " أَنِّي وَاللهِ مَا نُسِّيتُهَا، وَلَكِنْ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ "..زہدم حرمی فرماتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے، فرمانے لگے: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ، میں نے کہا: میں نے قسم اٹھائی ہے کہ نہیں کھاؤں گا، فرماتے ہیں: کھاؤ عنقریب میں تیری قسم کے بارے میں بتاتا ہوں، کہتے ہیں: میں نے قریب ہو کر کھا لیا، فرماتے ہیں: ہم اشعریوں کے ایک گروہ میں نبی ﷺ کے پاس آئے، ہم سواریوں کا مطالبہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہ دوں گا اور نہ ہی میرے پاس موجود ہے۔“ ہم ٹھہرے رہے تو بلند کوہانوں والے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے ہمیں سواریاں مہیا کر دیں، ہم تھوڑا ہی چلے تھے کہ ہم نے سوچا کہ ہم نے نبی ﷺ کو ان کی قسم بھلا دی ہے، اللہ کی قسم! ہم فلاح نہ پائیں گے، پھر ہم نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے واپس کر دیا؟“ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہ دیں گے، ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ان میں برکت نہ دی جائے اور کہیں ہم نے آپ کو قسم بھلا نہ دی ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنی قسم بھولا نہیں ہوں، لیکن جو کوئی قسم اٹھائے اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو وہ کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“