السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذي هو خير، وليكفر عن يمينه باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھی، تو وہ بہتر کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، فَسَأَلَهُ نَفَقَةً، أَوْ فِي ثَمَنِ خَادِمٍ، فَقَالَ لَهُ عَدِيُّ: مَا عِنْدِي إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي، فَأَنَا أَكْتُبُ لَكَ إِلَى أَهْلِي تُعْطَهَا، قَالَ: فَلَمْ يَرْضَ، قَالَ: فَغَضِبَ عَدِيُّ فَحَلَفَ لَا يُعْطِيهِ شَيْئًا، قَالَ: فَرَضِيَ الرَّجُلُ، قَالَ: فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى تُقَاءَهَا، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى مَا حَنَثَتْ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ.تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے خرچ یا ایک خادم کی قیمت کا سوال کیا، تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس تو زرہ یا خود ہے، لیکن میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں وہ تجھے دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص راضی نہ ہوا تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور انہوں نے قسم اٹھائی کہ کچھ نہ دیں گے۔ بعد میں وہ آدمی راضی ہو گیا تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قسم اٹھائے، پھر اس سے بہتر تقویٰ والی بات دیکھے تو تقویٰ کی خاطر اس کو چھوڑ دے۔“ ورنہ میں قسم نہ توڑتا۔