السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذي هو خير، وليكفر عن يمينه باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنے میں بہتری دیکھی، تو وہ بہتر کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
حدیث نمبر: 19854
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مِنَ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينِهِ، فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن صالح وحاظی رحمہ اللہ اپنی سند سے ذکر کرتے ہیں کہ ”جب آدمی اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کے لیے ضد کرتا ہے تو وہ گناہ کے اعتبار سے بڑا ہے۔“