کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ ⦗٥١٦⦘ الْقُرَشِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا} [النحل: ٦٧] قَالَ: " السَّكَرُ مَا حُرِّمَ مِنْ ثَمَرَتِهَا، وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ مَا حَلَّ مِنْ ثَمَرَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: پھلوں سے جس میں نشہ ہو وہ حرام ہے اور پھلوں سے اچھا رزق حلال ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا} [النحل: ٦٧] " فَحَرَّمَ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ السَّكَرَ مَعَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛ لِأَنَّهُ مِنْهَا، قَالَ: {ورِزْقًا حَسَنًا} [النحل: ٦٧] فَهُوَ حَلَالُهُ مِنَ الْخَلِّ وَالرُّبِّ وَالنَّبِيذِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ، فَأَقَرَّهُ اللهُ وَجَعَلَهُ اللهُ حَلَالًا لِلْمُسْلِمِينَ " وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: السَّكَرُ نَقِيعُ التَّمْرِ، وَعَلَيْهِ تَدُلُّ رِوَايَةُ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَعَ الدَّلَالَةِ عَلَى دُخُولِهِ فِي التَّحْرِيمِ حِينَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ؛ لِأَنَّهُ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان پھلوں سے جن میں نشہ ہو جائے جیسے شراب تو وہ حرام ہے اور ﴿رِزْقًا حَسَنًا﴾ [سورة النحل: 67] جیسے سرکہ، مربہ، نبیذ تو یہ مسلمانوں کے لیے حلال ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ، قَالَ: " السَّكَرُ الْخَمْرُ قَبْلَ تَحْرِيمِهَا، وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ طَعَامُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا﴾ [سورة النحل: 67] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «سَكَرًا» سے مراد حرام ہونے سے پہلے کی شراب ہے اور «رِزْقًا حَسَنًا» سے مراد رزقِ حسن اس کا کھانا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، وَأَبِي رَزِينٍ، قَالُوا فِي هَذِهِ الْآيَةِ {تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا} [النحل: ٦٧]: " هِيَ مَنْسُوخَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ اور ابو رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سورة النحل کی یہ آیت منسوخ ہے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " حُرِّمَتِ ⦗٥١٧⦘ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا، الْقَلِيلُ مِنْهَا وَالْكَثِيرُ، وَالسَّكَرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ، وَالْمُرَادُ بِالسَّكَرِ الْمَذْكُورُ فِيهِ الْمُسْكِرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”شراب تھوڑا ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔“ «السَّكَرُ» (سکر) سے مراد نشہ آور ہے۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصُّوفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا، قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالْمُسْكِرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شراب تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور نشہ آور مشروب حرام ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " وَالْمُسْكِرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ "، وَعَلَى هَذَا يَدُلُّ سَائِرُ الرِّوَايَاتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَلِيلُ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ لائے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَلَّامٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، وَلَيْسَ بِابْنِ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا " فَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، غَلَطَ فِيهِ أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ سِمَاكٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ يُخْطِئُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ⦗٥١٨⦘ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قِرْصَافَةَ، امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا وَهَذَا أَيْضًا غَيْرُ ثَابِتٍ، وَقِرْصَافَةُ هَذِهِ لَا يُدْرَى مَنْ هِيَ، وَالْمَشْهُوَرُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خِلَافُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ، جو ابو موسیٰ کے بیٹے نہیں ہیں، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پیو، لیکن نشے میں مت آؤ۔“
ابو الاحوص سلام بن سلیم نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اس میں ابو الاحوص نے غلطی کی ہے، ہمیں سماک کے شاگردوں میں سے کسی کا علم نہیں جس نے اس پر ان کی متابعت کی ہو۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو الاحوص اس حدیث میں غلطی کرتے تھے۔ ابو عوانہ نے اسے سماک سے، انہوں نے اپنی قوم کی ایک عورت قرصافہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”پیو، لیکن نشے میں مت آؤ۔“ یہ بھی ثابت نہیں ہے، یہ قرصافہ معلوم نہیں کون ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مشہور بات اس کے خلاف ہے۔
ابو الاحوص سلام بن سلیم نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اس میں ابو الاحوص نے غلطی کی ہے، ہمیں سماک کے شاگردوں میں سے کسی کا علم نہیں جس نے اس پر ان کی متابعت کی ہو۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو الاحوص اس حدیث میں غلطی کرتے تھے۔ ابو عوانہ نے اسے سماک سے، انہوں نے اپنی قوم کی ایک عورت قرصافہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”پیو، لیکن نشے میں مت آؤ۔“ یہ بھی ثابت نہیں ہے، یہ قرصافہ معلوم نہیں کون ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مشہور بات اس کے خلاف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ، قَالَ: وَهِمَ أَبُو الْأَحْوَصِ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: " وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو الاحوص کو اس کی سند اور متن میں وہم ہوا ہے۔ دوسروں نے اسے سماک سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”اور نشہ آور چیز نہ پیو۔“ اسی طرح محارب بن دثار نے بھی اسے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں مشکیزے کے سوا (دوسرے برتنوں میں) نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، تو تم اسے تمام مشکیزوں میں بنا کر پی سکتے ہو، لیکن نشہ آور نہ پیو۔“
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُشْكَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ زُرَارَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، هِيَ الشَّرْبَةُ الَّتِي تُسْكِرُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے جسے تو پیے اور تجھے نشہ چڑھ جائے۔“
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجِرَاحِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: تُحَرَّمُ الشَّرْبَةُ الَّتِي تُسْكِرُكَ، فَقَالَ: هَذَا بَاطِلٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سابقہ روایت باطل ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ. وَرَوَاهُ بِإِسْنَادِهِ عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِنْ قَوْلِهِ بِمَعْنَاهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بِخِلَافِهِ، وَذَلِكَ فِيمَا رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانُوا ⦗٥١٩⦘ يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی اور ان کے اصحاب کی رائے یہ تھی کہ جس مشروب کے پینے سے نشہ ہو تو وہ جائز نہیں ہے کہ دوبارہ پیا جائے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہے، اور یہ (سابقہ روایت) دراصل ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہے، اور یہ (سابقہ روایت) دراصل ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ: لَمَّا قَدِمَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الْكُوفَةَ كَانَتْ بِهِ عِلَّةٌ، فَأَتَاهُ وَكِيعٌ وَأَصْحَابُنَا وَالْكُوفِيُّونَ فَتَذَاكَرُوا عِنْدَهُ حَتَّى بَلَغُوا الشَّرَابَ، فَجَعَلَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَحْتَجُّ بِأَحَادِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالُوا: لَا، وَلَكِنْ مِنْ حَدِيثِنَا، فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا سَكِرَ مِنْ شَرَابٍ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ أَبَدًا فَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِلَّذِي يَلِيهِ: رَأَيْتَ أَعْجَبَ مِنْ هَؤُلَاءِ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ أَصْحَابِهِ وَالتَّابِعِينَ فَلَمْ يَعْبَئُوا بِهِ، وَأَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ؟.
حافظ ثناء اللہ
زکریا بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مبارک رحمہ اللہ کوفہ میں آئے، انہیں کوئی بیماری تھی تو وکیع رحمہ اللہ، ان کے اصحاب اور اہل کوفہ ان کے پاس آئے اور آپ سے مذاکرہ کرنے لگے۔ جب شراب (کے مسئلے) پر پہنچے تو ابن مبارک رحمہ اللہ ان کو احادیثِ نبویہ ﷺ، جو مہاجرین و انصار سے ہیں، بیان کرنے لگے تو وہ کہنے لگے: ”نہیں، ہماری حدیث سناؤ۔“ تو ابن مبارک رحمہ اللہ نے حسن بن علی فقیمی عن فضیل بن عمرو عن ابراہیم رحمہ اللہ کے طرق سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: ”جس مشروب میں نشہ ہو جائے تو اسے کبھی نہیں پی سکتے۔“ تو ان کے سر جھک گئے، تو ابن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے ان سے عجیب لوگ نہیں دیکھے؛ میں نے ان کو مہاجرین و انصار اور تابعین سے نبی ﷺ کی روایات بیان کیں تو انہوں نے قبول نہ کیں اور ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کی، ان کا قول ذکر کیا تو ان کے سر جھک گئے۔“