السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17410
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں نبیذ سے منع کیا ہے تو تم اسے عام پینے کے برتنوں میں بنا کر پی سکتے ہو، لیکن نشہ آور نہ پیو۔“