السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17407
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَلِيلُ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ حَرَامٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ لائے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔“