السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17409
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ، قَالَ: وَهِمَ أَبُو الْأَحْوَصِ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: " وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ.حافظ ثناء اللہ
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو الاحوص کو اس کی سند اور متن میں وہم ہوا ہے۔ دوسروں نے اسے سماک سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”اور نشہ آور چیز نہ پیو۔“ اسی طرح محارب بن دثار نے بھی اسے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔