السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17400
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ ⦗٥١٦⦘ الْقُرَشِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا} [النحل: ٦٧] قَالَ: " السَّكَرُ مَا حُرِّمَ مِنْ ثَمَرَتِهَا، وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ مَا حَلَّ مِنْ ثَمَرَتِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: پھلوں سے جس میں نشہ ہو وہ حرام ہے اور پھلوں سے اچھا رزق حلال ہے۔