السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَلَّامٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، وَلَيْسَ بِابْنِ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا " فَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، غَلَطَ فِيهِ أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ سِمَاكٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ يُخْطِئُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ⦗٥١٨⦘ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قِرْصَافَةَ، امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا وَهَذَا أَيْضًا غَيْرُ ثَابِتٍ، وَقِرْصَافَةُ هَذِهِ لَا يُدْرَى مَنْ هِيَ، وَالْمَشْهُوَرُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خِلَافُ ذَلِكَ.حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ، جو ابو موسیٰ کے بیٹے نہیں ہیں، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پیو، لیکن نشے میں مت آؤ۔“
ابو الاحوص سلام بن سلیم نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اس میں ابو الاحوص نے غلطی کی ہے، ہمیں سماک کے شاگردوں میں سے کسی کا علم نہیں جس نے اس پر ان کی متابعت کی ہو۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو الاحوص اس حدیث میں غلطی کرتے تھے۔ ابو عوانہ نے اسے سماک سے، انہوں نے اپنی قوم کی ایک عورت قرصافہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”پیو، لیکن نشے میں مت آؤ۔“ یہ بھی ثابت نہیں ہے، یہ قرصافہ معلوم نہیں کون ہے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مشہور بات اس کے خلاف ہے۔