السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17403
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، وَأَبِي رَزِينٍ، قَالُوا فِي هَذِهِ الْآيَةِ {تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا} [النحل: ٦٧]: " هِيَ مَنْسُوخَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ اور ابو رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سورة النحل کی یہ آیت منسوخ ہے۔