السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما يحتج به من رخص في المسكر إذا لم يشرب منه ما يسكره، والجواب عنه باب: ان ائمہ کی دلیل کا بیان جنہوں نے نشہ آور چیز کی اس حد تک اجازت دی ہے جب تک اسے نشہ آور مقدار میں نہ پیا جائے، اور اس دلیل کے جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 17402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ، قَالَ: " السَّكَرُ الْخَمْرُ قَبْلَ تَحْرِيمِهَا، وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ طَعَامُهُ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا﴾ [سورة النحل: 67] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «سَكَرًا» سے مراد نشہ شراب ہے جو اس کو حرام کرتی ہے اور «رِزْقًا حَسَنًا» سے مراد رزقِ حسن اس کا کھانا ہے۔