حدیث نمبر: 17414
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ: لَمَّا قَدِمَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الْكُوفَةَ كَانَتْ بِهِ عِلَّةٌ، فَأَتَاهُ وَكِيعٌ وَأَصْحَابُنَا وَالْكُوفِيُّونَ فَتَذَاكَرُوا عِنْدَهُ حَتَّى بَلَغُوا الشَّرَابَ، فَجَعَلَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَحْتَجُّ بِأَحَادِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالُوا: لَا، وَلَكِنْ مِنْ حَدِيثِنَا، فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا سَكِرَ مِنْ شَرَابٍ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ أَبَدًا فَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِلَّذِي يَلِيهِ: رَأَيْتَ أَعْجَبَ مِنْ هَؤُلَاءِ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ أَصْحَابِهِ وَالتَّابِعِينَ فَلَمْ يَعْبَئُوا بِهِ، وَأَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ؟.
حافظ ثناء اللہ

زکریا بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مبارک رحمہ اللہ کوفہ میں آئے، انہیں کوئی بیماری تھی تو وکیع رحمہ اللہ، ان کے اصحاب اور اہل کوفہ ان کے پاس آئے اور آپ سے مذاکرہ کرنے لگے۔ جب شراب (کے مسئلے) پر پہنچے تو ابن مبارک رحمہ اللہ ان کو احادیثِ نبویہ ﷺ، جو مہاجرین و انصار سے ہیں، بیان کرنے لگے تو وہ کہنے لگے: ”نہیں، ہماری حدیث سناؤ۔“ تو ابن مبارک رحمہ اللہ نے حسن بن علی فقیمی عن فضیل بن عمرو عن ابراہیم رحمہ اللہ کے طرق سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: ”جس مشروب میں نشہ ہو جائے تو اسے کبھی نہیں پی سکتے۔“ تو ان کے سر جھک گئے، تو ابن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے ان سے عجیب لوگ نہیں دیکھے؛ میں نے ان کو مہاجرین و انصار اور تابعین سے نبی ﷺ کی روایات بیان کیں تو انہوں نے قبول نہ کیں اور ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کی، ان کا قول ذکر کیا تو ان کے سر جھک گئے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17414
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»