کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
❮
❯
احْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ فِي الْقَدِْيمِ بِالْآيَةِ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ} [الحجرات: 9]، فَأَذِنَ تَبَارَكَ اسْمُهُ بِقِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ إِذَا أَبَتْ أَنْ تَفِيءَ، قَالَ: وَرَغِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ، وَسَاقَ الْأَحَادِيثَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا فِي أَوَّلِ هَذَا الْكِتَابِ، وَنَحْنُ نَسُوقُهَا هَهُنَا بِأَسَانِيدَ أُخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم (قول) میں اس آیت سے استدلال کیا: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔“ [سورة الحجرات: 9]
پس اللہ تبارک اسمہ نے باغی گروہ سے لڑنے کی اجازت دی جب وہ (حق کی طرف) لوٹنے سے انکار کرے۔
انہوں نے فرمایا: ”اور رسول اللہ ﷺ نے اہلِ بغاوت سے لڑنے کی ترغیب دی۔“
اور انہوں نے وہ احادیث بیان کیں جو ہم نے اس کتاب کے شروع میں ذکر کی ہیں، اور ہم انہیں یہاں دوسری اسانید کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16779
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُنَادِي، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ، فَتَمْرُقُ بَيْنَهُمْ مَارِقَةٌ، تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت دو گروہوں میں بٹ جائے گی، پھر ان کے درمیان سے ایک گروہ (دین سے) نکل جائے گا، جسے دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16779
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرُّزَازُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُنَادِي، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةٍ، قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ، مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةٍ، يَقُولُ عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ، أَحِدَّاءُ، ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، لَا يُجَاوِزُ الْقُرْآنُ تَرَاقِيَهُمْ، أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، فَالْمَأْجُورُ مَنْ قَتَلَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مسلم بن ابی بکرہ رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا خوارج کے بارے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ تو جواب دیا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے تھے: ”میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو بہت سخت اور تند ہوں گے اور ان کی زبانیں قرآن سے تر ہوں گی لیکن یہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ جب تم انہیں دیکھو تو انہیں (موت کی) نیند سلا دو (یعنی قتل کر دو)، پھر جب تم انہیں دیکھو تو انہیں نیند سلا دو، اور ان کو قتل کرنے والے کو اجر ملے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16780
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حِمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ⦗٣٢٥⦘ أَنْبَأَ سُفْيَانُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی کریم ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں تو مجھے آسمان سے گرنا زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولوں اور جب میں اپنی کوئی بات بیان کروں تو میں ایک جنگجو ہوں اور «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”جنگ دھوکا ہے“۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”آخری زمانے میں ایسی قوم آئے گی جن کی عمریں کم، دماغ کے بے وقوف، اچھی بات کہیں گے، (لیکن) وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ وہ جہاں بھی ملیں انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اجر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16781
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي أُمَامَةَ فَجِيءَ بِرُءُوسٍ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، فَقَالَ: " كِلَابُ النَّارِ، قَالَهَا ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ "، قَالَهَا ثَلَاثًا، قُلْتُ: شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ شَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ خوارج کے سر لائے گئے اور وہ دمشق کے میناروں پر رکھے گئے تو انہوں نے کہا: ”جہنم کے کتے“، تین مرتبہ یہی فرمایا اور فرمایا: ”آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول اور ان کو قتل کرنے والے اور ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے سب سے بہترین“، تین مرتبہ فرمایا۔ میں نے پوچھا: یہ آپ خود کہہ رہے ہیں یا نبی ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا میں اتنا جرات والا ہوں؟ میں نے نبی ﷺ سے یہ سنا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16782
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ، فَبَعَثَ الْمُهَلَّبُ سِتِّينَ رَأْسًا مِنَ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبُوا عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، وَكُنْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لِي إِذْ مَرَّ أَبُو أُمَامَةَ، فَنَزَلْتُ فَاتَّبَعْتُهُ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ وَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَصْنَعُ الشَّيْطَانُ بِبَنِي آدَمَ، ثَلَاثًا، كِلَابُ جَهَنَّمَ، كِلَابُ جَهَنَّمَ، شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ أَوْ قَتَلُوهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا أَبَا غَالِبٍ أَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُمْ، قُلْتُ: رَأَيْتُكَ بَكَيْتَ حِينَ رَأَيْتَهُمْ؟ قَالَ: بَكَيْتُ رَحْمَةً، رَأَيْتُهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَرَأَ: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ} [آل عمران: ٧]، حَتَّى بَلَغَ {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ} [آل عمران: ٧]، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ كَانَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ، وَزِيغَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا} [آل عمران: ١٠٥] إِلَى قَوْلِهِ: {فَفِي رَحْمَةِ اللهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [آل عمران: ١٠٧]، قُلْتُ: هُمْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ قِبَلِكَ تَقُولُ، أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَل سَمِعْتُهُ لَا مَرَّةً، وَلَا مَرَّتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تَزِيدُ عَلَيْهِمْ ⦗٣٢٦⦘ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ أَلَا تَرَى مَا يَفْعَلُونَ؟ قَالَ: عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ مہلب نے خوارج کے ساٹھ سر بھیجے جو دمشق کی سیڑھیوں پر نصب کر دیے گئے۔ میں اپنے ایک گھر کی چھت پر تھا کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، تو میں اتر کر ان کے پیچھے ہو لیا۔ جب وہ ان (سروں) کے پاس کھڑے ہوئے تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فرمایا: سبحان اللہ! شیطان آدم کی اولاد کے ساتھ کیا کرتا ہے! تین مرتبہ (فرمایا)۔ جہنم کے کتے، جہنم کے کتے، آسمان کے سائے تلے بدترین مقتول، تین مرتبہ (فرمایا)، بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کریں۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے ابو غالب! اللہ تمہیں ان سے پناہ میں رکھے۔ میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ انہیں دیکھ کر رو پڑے؟ فرمایا: میں رحم کھا کر رویا، میں نے دیکھا کہ یہ اہلِ اسلام میں سے تھے۔ کیا تم سورۂ آل عمران پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے پڑھا: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ ”وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی، اس میں سے کچھ آیات محکم ہیں جو کتاب کی اصل ہیں“ [سورة آل عمران: 7] یہاں تک کہ ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ﴾ ”اور اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا“ [سورة آل عمران: 7] تک پہنچے، اور (فرمایا:) ان لوگوں کے دلوں میں کجی تھی تو انہیں ٹیڑھا کر دیا گیا۔ پھر پڑھا: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا﴾ ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو فرقوں میں بٹ گئے اور اختلاف کیا“ [سورة آل عمران: 105] یہاں تک کہ ﴿فَفِي رَحْمَةِ اللهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ”تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے“ [سورة آل عمران: 107]۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! کیا یہ وہی لوگ ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: یہ آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ فرمایا: تب تو میں بڑا جری ہوں گا! بلکہ میں نے یہ نہ ایک مرتبہ سنا نہ دو مرتبہ، یہاں تک کہ انہوں نے سات (مرتبہ) گنوایا۔ پھر فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور یہ امت ان سے ایک فرقہ زیادہ ہوگی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ فرمایا: ان پر وہ ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16783
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِأَهْلِ النَّهْرِ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا قَضَى الله عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ، قَالَ عُبَيْدَةُ: فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثَلَاثًا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِْيمِ: وَأَنْكَرَ قَوْمٌ قِتَالَ أَهْلِ الْبَغْيِ، وَقَالُوا: أَهْلُ الْبَغْيِ هُمْ أَهْلُ الْكُفْرِ، وَلَيْسُوا بِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَلَا يَحِلُّ قِتَالُ الْمُسْلِمِينَ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ: الْمُرْتَدُّ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، وَالزَّانِي بَعْدَ الْإِحْصَانِ، وَالْقَاتِلُ فَيُقْتَلُ "، فَقَالُوا: حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّمَاءَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْجِهَةِ، فَلَا يَحِلُّ الدَّمُ إِلَّا بِهَا، وَقِتَالُ الْمُسْلِمِ كَقَتْلِهِ؛ لِأَنَّ الْقِتَالَ يَصِيرُ إِلَى الْقَتْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُقَالُ لَهُمْ: أَمَرَ اللهُ بِقِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ، وَأَمَر بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ الْقِتَالُ مِنَ الْقَتْلِ بِسَبِيلٍ، قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَحِلَّ قِتَالُ الْمُسْلِمِ وَلَا يَحِلَّ قَتْلُه، ُ كَمَا يَحِلُّ جَرْحُهُ وَضَرْبُهُ وَلَا يَحِلُّ قَتْلُهُ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنْكِرُوا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِتَالَهُ الْخَوَارِجَ، وَأَنْكَرُوا قِتَالَهُ أَهْلَ الْبَصْرَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ وَكَرِهُوَا، وَلَمْ يَكْرَهُوا صَنِيعَهُ بِالْخَوَارِجِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الصَّحَابَةِ لِمَا كَانُوا يَكْرَهُونَ مِنَ الْقِتَالِ فِي الْفُرْقَةِ، فَأَمَّا الْخَوَارِجُ فَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْهُمْ كَرِهَ قَوْلَهُ إِيَّاهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اہل النہر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ان میں ایک آدمی ہوگا ناقص ہاتھ والا اور اس کے ہاتھ پر پستان کی طرح گوشت لٹکا ہوگا۔ اگر مجھے تمہارے آپے سے باہر (پھولے نہ سمانے) کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں بیان کرتا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے لڑنے والوں کا کیا مقام بتایا ہے۔ عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ سے یہ سنا ہے؟ آپ نے تین مرتبہ «وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”رب کعبہ کی قسم“ اٹھا کر فرمایا: ہاں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے باغیوں سے قتال کا انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: باغی اہل کفر ہوتے ہیں اور مسلمان نہیں اور مسلمانوں سے قتال جائز نہیں؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین وجوہات سے: مرتد، شادی شدہ زانی اور قاتل۔“ ان کے علاوہ باقی تمام طریقوں سے مسلمان کا قتل حرام ہے؛ لہٰذا ان سے جنگ بھی جائز نہیں؛ کیونکہ یہ ان کے قتل کا سبب بنے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے باغی گروہ سے لڑنے کا حکم دیا ہے اور قتال، قتل کی طرح نہیں ہے؛ کبھی مسلمان سے لڑنا جائز ہوتا ہے لیکن اسے قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، جیسے اسے زخمی کرنا اور مارنا جائز ہوتا ہے لیکن قتل کرنا جائز نہیں ہوتا۔
پھر انہوں نے کلام جاری رکھا یہاں تک کہ فرمایا: اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خوارج سے لڑنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، البتہ اہل بصرہ اور اہل شام سے ان کی لڑائی پر اعتراض کیا اور اسے ناپسند کیا، لیکن خوارج کے ساتھ ان کے طرزِ عمل کو ناپسند نہیں کیا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عبدالرحمن بغدادی نے امام شافعی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس سے ان کی مراد بعض صحابہ ہیں، کیونکہ وہ تفرقہ کے زمانے میں لڑائی کو ناپسند کرتے تھے، رہے خوارج تو ہم ان (صحابہ) میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے ان کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کو ناپسند کیا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16784
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَا عَلِمْتُ أَحَدًا كَرِهَ قِتَالَ اللُّصُوصِ وَالْحَرُورِيَّةِ تَأَثُّمًا، إِلَّا أَنْ يَجْبُنَ رَجُلٌ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ كَرِهُوَا قِتَالَهُ، وَلَمْ يَمْضُوا مَعَهُ فِي حَرْبِ صِفِّينَ، أَنَّهُمُ اعْتَذَرُوا لِبَعْضِ الْمَعَاذِ، يَرَوْهُمْ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ⦗٣٢٧⦘ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، وَغَيْرَهَمْ، فَبَعْضُهُمْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَخْطَأَ رَأْيِي، وَبَعْضُهُمْ كَانَ قَدْ قَتَلَ مُسْلِمًا حَسِبَهُ بِإِسْلَامِهِ مُتَعَوِّذًا، فَعَاهَدَ اللهَ تَعَالَى أَنْ لَا يَقْتُلَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَبَعْضُهُمْ كَانَ سَمِعَ تَعْظِيمَ الْقِتَالِ فِي الْفُرْقَةِ فَحَسِبَهُ قِتَالًا فِي الْفُرْقَةِ، وَبَعْضُهُمْ أَحَبَّ أَنْ يَتَوَلَّاهُ غَيْرُهُ، وَقَدْ ذَهَبَ أَكْثَرُهُمْ إِلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ مُحِقًّا فِي قِتَالِهِ حَامِلًا لِمَنْ خَالَفَهُ عَلَى طَاعَتِهِ، يَقْصِدُ بِقِتَالِهِ أَهْلَ الشَّامِ حَمْلَ أَهْلِ الِامْتِنَاعِ عَلَى تَرْكِ الطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ، وَبِقِتَالِهِ أَهْلَ الْبَصْرَةِ دَفْعَ مَا كَانُوا يَظُنُّونَ عَلَيْهِ مِنْ قَتْلِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَوْ مُشَارَكَتِهِ قَاتِلَهُ فِي دَمِهِ، أَوْ مَا يَقْدَحُ فِي إِمَامَتِهِ، واسْتَدَلُّوا عَلَى بَغْيِ مَنْ خَالَفَهُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِمَا كَانَ سَبَقَ لَهُ مِنْ شُورَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَيْعَةِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَى إِيَّاهُ قَبْلَ وُقُوعِ الْفُرْقَةِ، وَأَنَّهُ كَانَ فِي وَقْتِهِ أَحَقَّهُمْ بِالْإِمَامَةِ بِخَصَائِصِهِ، وَأَنَّهُمْ وَجَدُوا عَلَامَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ فِيمَنْ خَالَفَهُ، وَهِيَ فِي مَا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی نے چوروں اور حروریوں سے لڑائی کرنا ناپسند کیا ہو مگر بزدل آدمی ہی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے اس جنگ کو ناپسند کیا ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جنگ صفین سے بہت سے صحابہ نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ان میں سعد بن ابی وقاص، اسامہ بن زید اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ بعض سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میری رائے غلط تھی۔“ بعض نے کہا: ”اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ اپنے اسلام کے ذریعے پناہ حاصل کر رہا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرے گا جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہو۔ بعض نے فرقت میں قتال کو بڑا سمجھا اور اسے «قِتَالٌ فِي الْفُرْقَةِ» ”تفرقہ میں لڑائی“ گمان کیا اور بعض نے چاہا کہ اس کا غیر اس کا والی بن جائے۔ ان میں سے اکثر اس طرف گئے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس لڑائی میں حق پر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی لڑائی ان لوگوں کے لیے تھی جنہوں نے آپ کی فرمانبرداری سے اعراض کیا، یعنی اہل شام جو امام کی اطاعت سے رک گئے اور اہل بصرہ سے اس لیے قتال کیا کہ وہ گمان کرتے تھے انہوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا کم از کم قتل میں شریک ہوئے۔ وہ اسی وجہ سے آپ سے لڑے یا وہ آپ کی امانت میں عیب لگاتے تھے۔ ان لوگوں نے اہل شام کی بغاوت اور مخالفت پر امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی شوریٰ سے دلیل پکڑی اور یہ بھی کہ اصحابِ شوریٰ میں سے باقیوں نے فرقت سے پہلے ان کی بیعت کرلی تھی اور وہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے امامت کے زیادہ حق دار تھے اور لوگوں نے ان کے مخالفین میں رسول اللہ ﷺ کی بتلائی ہوئی علامت پہچان لی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّبْعِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ: " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16786
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(یہ حدیث) پہلے گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِمَا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16788
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، أَبُو قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " بُؤْسًا لَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”اے ابن سمیہ! افسوس ہے تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16789
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ،، قَالَ: لَا أَدْرِي أَكَانَ مَعَ أَبِيهِ، أَوْ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ فَدَخَلَ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "، فَقَامَ عَمْرٌو مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ فَدَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "، قَالَ: فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: دَحَضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاهُ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا، أَوْ قَالَ: سُيُوفِنَا. لَفْظُ حَدِيثِ السُّكَّرِيِّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرَانَ قَالَ: فَقَامَ عَمْرٌو فَزِعًا يَرْتَجِعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، ثُمَّ ذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، ان کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیوں؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے عمار! تجھے باغی گروہ قتل کرے گا۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنے ہی پیشاب میں دھنس گیا۔ کیا ہم نے اسے مارا ہے؟ اسے علی رضی اللہ عنہ اور اس کے اصحاب نے قتل کیا ہے اور ہماری طرف ان کو پھینک دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16790
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»