❮
❯
حدیث نمبر: 16783
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ، فَبَعَثَ الْمُهَلَّبُ سِتِّينَ رَأْسًا مِنَ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبُوا عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، وَكُنْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لِي إِذْ مَرَّ أَبُو أُمَامَةَ، فَنَزَلْتُ فَاتَّبَعْتُهُ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ وَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَصْنَعُ الشَّيْطَانُ بِبَنِي آدَمَ، ثَلَاثًا، كِلَابُ جَهَنَّمَ، كِلَابُ جَهَنَّمَ، شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ أَوْ قَتَلُوهُ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا أَبَا غَالِبٍ أَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُمْ، قُلْتُ: رَأَيْتُكَ بَكَيْتَ حِينَ رَأَيْتَهُمْ؟ قَالَ: بَكَيْتُ رَحْمَةً، رَأَيْتُهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَرَأَ: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ} [آل عمران: ٧]، حَتَّى بَلَغَ {وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ} [آل عمران: ٧]، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ كَانَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ، وَزِيغَ بِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا} [آل عمران: ١٠٥] إِلَى قَوْلِهِ: {فَفِي رَحْمَةِ اللهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [آل عمران: ١٠٧]، قُلْتُ: هُمْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ قِبَلِكَ تَقُولُ، أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَل سَمِعْتُهُ لَا مَرَّةً، وَلَا مَرَّتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تَزِيدُ عَلَيْهِمْ ⦗٣٢٦⦘ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ أَلَا تَرَى مَا يَفْعَلُونَ؟ قَالَ: عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ.
حافظ ثناء اللہ

ابو غالب کہتے ہیں کہ میں شام میں تھا کہ مہلب نے خوارج کے ساٹھ سر بھیجے جو دمشق کی سیڑھیوں پر نصب کر دیے گئے۔ میں اپنے ایک گھر کی چھت پر تھا کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، تو میں اتر کر ان کے پیچھے ہو لیا۔ جب وہ ان (سروں) کے پاس کھڑے ہوئے تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فرمایا: سبحان اللہ! شیطان آدم کی اولاد کے ساتھ کیا کرتا ہے! تین مرتبہ (فرمایا)۔ جہنم کے کتے، جہنم کے کتے، آسمان کے سائے تلے بدترین مقتول، تین مرتبہ (فرمایا)، بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کریں۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے ابو غالب! اللہ تمہیں ان سے پناہ میں رکھے۔ میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ انہیں دیکھ کر رو پڑے؟ فرمایا: میں رحم کھا کر رویا، میں نے دیکھا کہ یہ اہلِ اسلام میں سے تھے۔ کیا تم سورۂ آل عمران پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے پڑھا: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ ”وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی، اس میں سے کچھ آیات محکم ہیں جو کتاب کی اصل ہیں“ [سورة آل عمران: 7] یہاں تک کہ ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ﴾ ”اور اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا“ [سورة آل عمران: 7] تک پہنچے، اور (فرمایا:) ان لوگوں کے دلوں میں کجی تھی تو انہیں ٹیڑھا کر دیا گیا۔ پھر پڑھا: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا﴾ ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو فرقوں میں بٹ گئے اور اختلاف کیا“ [سورة آل عمران: 105] یہاں تک کہ ﴿فَفِي رَحْمَةِ اللهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ ”تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے“ [سورة آل عمران: 107]۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! کیا یہ وہی لوگ ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: یہ آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ فرمایا: تب تو میں بڑا جری ہوں گا! بلکہ میں نے یہ نہ ایک مرتبہ سنا نہ دو مرتبہ، یہاں تک کہ انہوں نے سات (مرتبہ) گنوایا۔ پھر فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے اور یہ امت ان سے ایک فرقہ زیادہ ہوگی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ فرمایا: ان پر وہ ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16783