السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الخلاف في قتال أهل البغي باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
احْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ فِي الْقَدِْيمِ بِالْآيَةِ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ} [الحجرات: 9]، فَأَذِنَ تَبَارَكَ اسْمُهُ بِقِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ إِذَا أَبَتْ أَنْ تَفِيءَ، قَالَ: وَرَغِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ، وَسَاقَ الْأَحَادِيثَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا فِي أَوَّلِ هَذَا الْكِتَابِ، وَنَحْنُ نَسُوقُهَا هَهُنَا بِأَسَانِيدَ أُخَرَ.امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم (قول) میں اس آیت سے استدلال کیا: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔“ [سورة الحجرات: 9]
پس اللہ تبارک اسمہ نے باغی گروہ سے لڑنے کی اجازت دی جب وہ (حق کی طرف) لوٹنے سے انکار کرے۔
انہوں نے فرمایا: ”اور رسول اللہ ﷺ نے اہلِ بغاوت سے لڑنے کی ترغیب دی۔“
اور انہوں نے وہ احادیث بیان کیں جو ہم نے اس کتاب کے شروع میں ذکر کی ہیں، اور ہم انہیں یہاں دوسری اسانید کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّزَازُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُنَادِي، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ، فَتَمْرُقُ بَيْنَهُمْ مَارِقَةٌ، تَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ہوں گے جو ایک دوسرے پر تلوار سونتیں گے، دونوں گروہوں میں سے اولیٰ حق کے ساتھ لڑے گا۔“