السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الخلاف في قتال أهل البغي باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
حدیث نمبر: 16780
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرُّزَازُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُنَادِي، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةٍ، قَالَ: وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ، مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةٍ، يَقُولُ عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ، أَحِدَّاءُ، ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، لَا يُجَاوِزُ الْقُرْآنُ تَرَاقِيَهُمْ، أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، فَالْمَأْجُورُ مَنْ قَتَلَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
مسلم بن ابی بکرہ رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا خوارج کے بارے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ تو جواب دیا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے تھے: ”میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو بہت سخت موحد اور ان کی زبانیں قرآن سے تر ہوں گی لیکن یہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ جب تم ان سے ملو تو انہیں سمجھانا اور ان سے لڑنے والے کو اجر ملے گا۔“