السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الخلاف في قتال أهل البغي باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَا عَلِمْتُ أَحَدًا كَرِهَ قِتَالَ اللُّصُوصِ وَالْحَرُورِيَّةِ تَأَثُّمًا، إِلَّا أَنْ يَجْبُنَ رَجُلٌ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ كَرِهُوَا قِتَالَهُ، وَلَمْ يَمْضُوا مَعَهُ فِي حَرْبِ صِفِّينَ، أَنَّهُمُ اعْتَذَرُوا لِبَعْضِ الْمَعَاذِ، يَرَوْهُمْ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ⦗٣٢٧⦘ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، وَغَيْرَهَمْ، فَبَعْضُهُمْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَخْطَأَ رَأْيِي، وَبَعْضُهُمْ كَانَ قَدْ قَتَلَ مُسْلِمًا حَسِبَهُ بِإِسْلَامِهِ مُتَعَوِّذًا، فَعَاهَدَ اللهَ تَعَالَى أَنْ لَا يَقْتُلَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَبَعْضُهُمْ كَانَ سَمِعَ تَعْظِيمَ الْقِتَالِ فِي الْفُرْقَةِ فَحَسِبَهُ قِتَالًا فِي الْفُرْقَةِ، وَبَعْضُهُمْ أَحَبَّ أَنْ يَتَوَلَّاهُ غَيْرُهُ، وَقَدْ ذَهَبَ أَكْثَرُهُمْ إِلَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ مُحِقًّا فِي قِتَالِهِ حَامِلًا لِمَنْ خَالَفَهُ عَلَى طَاعَتِهِ، يَقْصِدُ بِقِتَالِهِ أَهْلَ الشَّامِ حَمْلَ أَهْلِ الِامْتِنَاعِ عَلَى تَرْكِ الطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ، وَبِقِتَالِهِ أَهْلَ الْبَصْرَةِ دَفْعَ مَا كَانُوا يَظُنُّونَ عَلَيْهِ مِنْ قَتْلِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَوْ مُشَارَكَتِهِ قَاتِلَهُ فِي دَمِهِ، أَوْ مَا يَقْدَحُ فِي إِمَامَتِهِ، واسْتَدَلُّوا عَلَى بَغْيِ مَنْ خَالَفَهُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِمَا كَانَ سَبَقَ لَهُ مِنْ شُورَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَيْعَةِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ الشُّورَى إِيَّاهُ قَبْلَ وُقُوعِ الْفُرْقَةِ، وَأَنَّهُ كَانَ فِي وَقْتِهِ أَحَقَّهُمْ بِالْإِمَامَةِ بِخَصَائِصِهِ، وَأَنَّهُمْ وَجَدُوا عَلَامَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ فِيمَنْ خَالَفَهُ، وَهِيَ فِي مَا.محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی نے چوروں اور حروریوں سے لڑائی کرنا ناپسند کیا ہو مگر بزدل آدمی ہی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے اس جنگ کو ناپسند کیا ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جنگ صفین سے بہت سے صحابہ نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ان میں سعد بن ابی وقاص، اسامہ بن زید اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ بعض سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میری رائے غلط تھی۔“ بعض نے کہا: ”اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ اپنے اسلام کے ذریعے پناہ حاصل کر رہا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرے گا جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہتا ہو۔ بعض نے فرقت میں قتال کو بڑا سمجھا اور اسے «قِتَالٌ فِي الْفُرْقَةِ» ”تفرقہ میں لڑائی“ گمان کیا اور بعض نے چاہا کہ اس کا غیر اس کا والی بن جائے۔ ان میں سے اکثر اس طرف گئے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس لڑائی میں حق پر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی لڑائی ان لوگوں کے لیے تھی جنہوں نے آپ کی فرمانبرداری سے اعراض کیا، یعنی اہل شام جو امام کی اطاعت سے رک گئے اور اہل بصرہ سے اس لیے قتال کیا کہ وہ گمان کرتے تھے انہوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا کم از کم قتل میں شریک ہوئے۔ وہ اسی وجہ سے آپ سے لڑے یا وہ آپ کی امانت میں عیب لگاتے تھے۔ ان لوگوں نے اہل شام کی بغاوت اور مخالفت پر امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی شوریٰ سے دلیل پکڑی اور یہ بھی کہ اصحابِ شوریٰ میں سے باقیوں نے فرقت سے پہلے ان کی بیعت کرلی تھی اور وہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے امامت کے زیادہ حق دار تھے اور لوگوں نے ان کے مخالفین میں رسول اللہ ﷺ کی بتلائی ہوئی علامت پہچان لی تھی۔