السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الخلاف في قتال أهل البغي باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حِمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ⦗٣٢٥⦘ أَنْبَأَ سُفْيَانُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی کریم ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں تو مجھے آسمان سے گرنا زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولوں اور جب میں اپنی کوئی بات بیان کروں تو میں ایک جنگجو ہوں اور «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”جنگ دھوکا ہے“۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”آخری زمانے میں ایسی قوم آئے گی جن کی عمریں کم، دماغ کے بے وقوف، اچھی بات کہیں گے، (لیکن) وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ وہ جہاں بھی ملیں انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اجر ہے۔“