السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الخلاف في قتال أهل البغي باب: اہلِ بغاوت سے قتال کرنے کے متعلق اختلافِ آراء کا بیان۔
حدیث نمبر: 16782
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي أُمَامَةَ فَجِيءَ بِرُءُوسٍ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ، فَقَالَ: " كِلَابُ النَّارِ، قَالَهَا ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ "، قَالَهَا ثَلَاثًا، قُلْتُ: شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ شَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ، بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ خوارج کے سر لائے گئے اور وہ دمشق کے میناروں پر رکھے گئے تو انہوں نے کہا: ”جہنم کے کتے“، تین مرتبہ یہی فرمایا اور فرمایا: ”آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول اور ان کو قتل کرنے والے اور ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے سب سے بہترین“، تین مرتبہ فرمایا۔ میں نے پوچھا: یہ آپ خود کہہ رہے ہیں یا نبی ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا میں اتنا جرات والا ہوں؟ میں نے نبی ﷺ سے یہ سنا ہے۔