❮
❯
حدیث نمبر: 16784
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِأَهْلِ النَّهْرِ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا قَضَى الله عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ، قَالَ عُبَيْدَةُ: فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثَلَاثًا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِْيمِ: وَأَنْكَرَ قَوْمٌ قِتَالَ أَهْلِ الْبَغْيِ، وَقَالُوا: أَهْلُ الْبَغْيِ هُمْ أَهْلُ الْكُفْرِ، وَلَيْسُوا بِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَلَا يَحِلُّ قِتَالُ الْمُسْلِمِينَ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ: الْمُرْتَدُّ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، وَالزَّانِي بَعْدَ الْإِحْصَانِ، وَالْقَاتِلُ فَيُقْتَلُ "، فَقَالُوا: حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّمَاءَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْجِهَةِ، فَلَا يَحِلُّ الدَّمُ إِلَّا بِهَا، وَقِتَالُ الْمُسْلِمِ كَقَتْلِهِ؛ لِأَنَّ الْقِتَالَ يَصِيرُ إِلَى الْقَتْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُقَالُ لَهُمْ: أَمَرَ اللهُ بِقِتَالِ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ، وَأَمَر بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ الْقِتَالُ مِنَ الْقَتْلِ بِسَبِيلٍ، قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَحِلَّ قِتَالُ الْمُسْلِمِ وَلَا يَحِلَّ قَتْلُه، ُ كَمَا يَحِلُّ جَرْحُهُ وَضَرْبُهُ وَلَا يَحِلُّ قَتْلُهُ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنْكِرُوا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِتَالَهُ الْخَوَارِجَ، وَأَنْكَرُوا قِتَالَهُ أَهْلَ الْبَصْرَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ وَكَرِهُوَا، وَلَمْ يَكْرَهُوا صَنِيعَهُ بِالْخَوَارِجِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ بَعْضَ الصَّحَابَةِ لِمَا كَانُوا يَكْرَهُونَ مِنَ الْقِتَالِ فِي الْفُرْقَةِ، فَأَمَّا الْخَوَارِجُ فَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْهُمْ كَرِهَ قَوْلَهُ إِيَّاهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

عبیدہ رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اہل النہر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ان میں ایک آدمی ہوگا ناقص ہاتھ والا اور اس کے ہاتھ پر پستان کی طرح گوشت لٹکا ہوگا۔ اگر مجھے تمہارے آپے سے باہر (پھولے نہ سمانے) کا ڈر نہ ہوتا تو میں تمہیں بیان کرتا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے لڑنے والوں کا کیا مقام بتایا ہے۔ عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ سے یہ سنا ہے؟ آپ نے تین مرتبہ «وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”رب کعبہ کی قسم“ اٹھا کر فرمایا: ہاں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قوم نے باغیوں سے قتال کا انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: باغی اہل کفر ہوتے ہیں اور مسلمان نہیں اور مسلمانوں سے قتال جائز نہیں؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین وجوہات سے: مرتد، شادی شدہ زانی اور قاتل۔“ ان کے علاوہ باقی تمام طریقوں سے مسلمان کا قتل حرام ہے؛ لہٰذا ان سے جنگ بھی جائز نہیں؛ کیونکہ یہ ان کے قتل کا سبب بنے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے باغی گروہ سے لڑنے کا حکم دیا ہے اور قتال، قتل کی طرح نہیں ہے؛ کبھی مسلمان سے لڑنا جائز ہوتا ہے لیکن اسے قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، جیسے اسے زخمی کرنا اور مارنا جائز ہوتا ہے لیکن قتل کرنا جائز نہیں ہوتا۔
پھر انہوں نے کلام جاری رکھا یہاں تک کہ فرمایا: اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خوارج سے لڑنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، البتہ اہل بصرہ اور اہل شام سے ان کی لڑائی پر اعتراض کیا اور اسے ناپسند کیا، لیکن خوارج کے ساتھ ان کے طرزِ عمل کو ناپسند نہیں کیا۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو عبدالرحمن بغدادی نے امام شافعی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس سے ان کی مراد بعض صحابہ ہیں، کیونکہ وہ تفرقہ کے زمانے میں لڑائی کو ناپسند کرتے تھے، رہے خوارج تو ہم ان (صحابہ) میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے ان کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کو ناپسند کیا ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16784
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»