کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خوشی کے موقع پر نچھاور کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بکھیرنے اور مثلہ کرنے“ سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو الْحَارِثِ الْوَرَّاقُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْكُتَّابِ حَذَقَ فَأَمَرَ أَبُو مَسْعُودٍ " فَاشْتَرَى لِصِبْيَانِهِ بِدِرْهَمٍ جَوْزًا وَكَرِهَ النُّهْبَى ".
حافظ ثناء اللہ
خالد بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مکتب کا ایک بچہ (پڑھائی میں) ماہر ہو گیا تو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اپنے بچوں کے لیے ایک درہم کے اخروٹ خریدے اور بکھیرنے کو مکروہ جانا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا السَّاجِيُّ، نا ابْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الصَّمَدِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حِصْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ، " كَرِهَ نَهَابَ الْغِلْمَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
خالد بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بچوں کے (بکھیری ہوئی چیزیں) لوٹنے کو ناپسند کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْدَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " كَرِهَ نَهَابَ الْعُرْسِ "، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالصمد رحمہ اللہ اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ وہ شادی کے موقع پر پیسے لوٹنے کو ناپسند کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ نا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الطَّائِيُّ الْمَنْبِجِيُّ، نا زُهَيْرٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّهُ ⦗٤٦٩⦘ كَرِهَ أَنْ يُنْثَرَ السُّكَّرُ " وَقَالَ عَامِرٌ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَدْرَكْتُ رِجَالًا صَالِحِينَ إِذَا أَتَوْا بِالْمُسَكَّرِ وَضَعُوهُ وَكَرِهُوا أَنْ يُنْثَرُ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ چینی بکھیرنے کو ناپسند فرماتے تھے اور عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: کوئی حرج نہیں ہے اور محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نیک لوگوں کو دیکھا ہے جب وہ شکر لاتے تو رکھ دیتے اور بکھیرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ فَذَكَرُوا نِثَارَ الْعُرْسِ فَكَرِهَ إِبْرَاهِيمُ وَلَمْ يَكْرَهِ الشَّعْبِيُّ ".
حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ کے درمیان چل رہا تھا، تو انہوں نے شادی کے موقع پر پیسے لوٹنے کا تذکرہ کیا۔ تو ابراہیم رحمہ اللہ نے ناپسند کیا جبکہ شعبی رحمہ اللہ نے مکروہ نہیں سمجھا۔
قَالَ: وَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ " أَنَّهُ كَرِهَهُ " وَقَدْ رُوِيَ فِي الرُّخْصَةِ، فِيهِ أَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ شادی کے موقع پر پیسے لوٹنے کو ناپسند کرتے تھے اور رخصت کے بارے میں جتنی احادیث ہیں سب کمزور ہیں۔
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ وَرَّاقُ عَبْدَانَ نا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ بَعْضَ نِسَائِهِ فَنُثِرَ عَلَيْهِ التَّمْرُ " الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ سَيْفٍ الْعَبْدِيُّ بَصْرِيٌّ عِنْدَهُ غَرَائِبُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض عورتوں سے شادی کی تو کھجوریں بکھیری گئیں۔
حسن بن عمرو، جو ابن سیف عبدی بصری ہیں، ان کے پاس غریب روایات ہیں۔
حسن بن عمرو، جو ابن سیف عبدی بصری ہیں، ان کے پاس غریب روایات ہیں۔
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ كَعْبٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، نا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا زَوَّجَ أَوْ تَزَوَّجَ نَثَرَ تَمْرًا " عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ بَصْرِيٌّ رَمَاهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ بِالْكَذِبِ وَنَسَبَهُ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی کی شادی کرواتے یا خود کسی عورت سے شادی کرتے تو آپ ﷺ کھجوریں بکھیرتے۔
عاصم بن سلیمان بصری ہیں، عمرو بن علی نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے اور انہیں حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا ہے۔
عاصم بن سلیمان بصری ہیں، عمرو بن علی نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے اور انہیں حدیث گھڑنے کی طرف منسوب کیا ہے۔
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ الْبُنْدَارُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا أَبُو الْفَضْلِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنِي عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَرَّارُ، نا لُمَازَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " شَهِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَاكَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " عَلَى الْأُلْفَةِ وَالطَّيْرِ الْمَأْمُونِ وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ بَارَكَ اللهُ لَكُمْ دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِهِ "، قَالَ: فَجِيءَ بِالدُّفِّ وَجِيءَ بِأَطْبَاقٍ عَلَيْهِ فَاكِهَةٌ وَسُكَّرٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْتَهِبُوا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أًوَلَمْ تَنْهَنَا عَنِ النُّهْبَةِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ أَمَّا الْعُرُسَاتِ فَلَا " قَالَ: فَجَاذَبَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاذَبُوهُ " ⦗٤٧٠⦘ فِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ وَانْقِطَاعٌ وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْهُولٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَلَا يَثْبُتُ فِي هَذَا الْبَابِ شَيْءٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کسی صحابی کی شادی کے موقع پر تشریف لائے تو فرمایا: ”الفت و محبت، نیک شگون اور رزق میں وسعت کو لازم پکڑو، اللہ تمہیں برکت دے، اس پر دف بجاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: دف لایا گیا اور پلیٹوں کے اندر میوہ جات اور شکر لائی گئی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”لوٹ لو۔“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: آپ نے تو لوٹنے سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ”فوجیوں کی لوٹ مار سے منع کیا ہے نہ کہ شادیوں کے موقع پر۔“ تو نبی ﷺ نے خود بھی کھینچ لیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی لوٹ لیا۔
اس کی سند میں مجہول راوی ہیں اور انقطاع ہے، اور یہ ایک دوسری مجہول سند سے عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی روایت کی گئی ہے، اور اس باب میں کوئی چیز ثابت نہیں، واللہ اعلم۔
اس کی سند میں مجہول راوی ہیں اور انقطاع ہے، اور یہ ایک دوسری مجہول سند سے عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی روایت کی گئی ہے، اور اس باب میں کوئی چیز ثابت نہیں، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ وَهُوَ الَّذِي يَلِيهِ " قَالَ: فَقَدَّمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٍ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ " إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّهُ يُفَارِقُ النِّثَارَ فِي الْمَعْنَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں سب سے بڑا دن قربانی کا دن ہے، پھر یوم القر ہے، اور وہ اس کے بعد والا دن ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ لائے تو وہ آپ ﷺ کے قریب ہونے لگے کہ آپ ﷺ کس سے ابتدا کرتے ہیں، جب قربانیاں پہلو کے بل گر پڑیں تو آپ ﷺ نے ہلکی سی بات کہی جسے میں سمجھ نہ سکا، میں نے اپنے پاس والے سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ کر لے لے۔“
اس کی سند حسن ہے، البتہ یہ معنی میں نثار (بکھیرنے) سے مختلف ہے، واللہ اعلم۔
اس کی سند حسن ہے، البتہ یہ معنی میں نثار (بکھیرنے) سے مختلف ہے، واللہ اعلم۔