❮
❯
حدیث نمبر: 14685
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ وَهُوَ الَّذِي يَلِيهِ " قَالَ: فَقَدَّمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٍ خَمْسٍ أَوْ سِتٍّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ " إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّهُ يُفَارِقُ النِّثَارَ فِي الْمَعْنَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں سب سے بڑا دن قربانی کا دن ہے، پھر یوم القر ہے، اور وہ اس کے بعد والا دن ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ لائے تو وہ آپ ﷺ کے قریب ہونے لگے کہ آپ ﷺ کس سے ابتدا کرتے ہیں، جب قربانیاں پہلو کے بل گر پڑیں تو آپ ﷺ نے ہلکی سی بات کہی جسے میں سمجھ نہ سکا، میں نے اپنے پاس والے سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے کاٹ کر لے لے۔“
اس کی سند حسن ہے، البتہ یہ معنی میں نثار (بکھیرنے) سے مختلف ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14685
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»