السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في النثار في الفرح باب: خوشی کے موقع پر نچھاور کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14680
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ فَذَكَرُوا نِثَارَ الْعُرْسِ فَكَرِهَ إِبْرَاهِيمُ وَلَمْ يَكْرَهِ الشَّعْبِيُّ ".حافظ ثناء اللہ
حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں شعبی رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ کے درمیان چل رہا تھا، تو انہوں نے شادی کے موقع پر پیسے لوٹنے کا تذکرہ کیا۔ تو ابراہیم رحمہ اللہ نے ناپسند کیا جبکہ شعبی رحمہ اللہ نے مکروہ نہیں سمجھا۔