السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في النثار في الفرح باب: خوشی کے موقع پر نچھاور کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14676
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو الْحَارِثِ الْوَرَّاقُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْكُتَّابِ حَذَقَ فَأَمَرَ أَبُو مَسْعُودٍ " فَاشْتَرَى لِصِبْيَانِهِ بِدِرْهَمٍ جَوْزًا وَكَرِهَ النُّهْبَى ".حافظ ثناء اللہ
خالد بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مکتب کا ایک بچہ (پڑھائی میں) ماہر ہو گیا تو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اپنے بچوں کے لیے ایک درہم کے اخروٹ خریدے اور بکھیرنے کو مکروہ جانا۔