کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14686
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْلِنُوا النِّكَاحَ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نکاح کا اعلان کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 14687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَقَلْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ اللهْوَ " ⦗٤٧١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: زَنَتِ امْرَأَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک انصاری عورت کو اس کے خاوند کے پاس منتقل کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی کھیل ہے؟ کیونکہ انصاری کھیل کو پسند کرتے ہیں۔“
(ب) محمد بن سابق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کی رخصتی کی گئی۔
(ب) محمد بن سابق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کی رخصتی کی گئی۔
حدیث نمبر: 14688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُسَدَّدٌ، نا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ الدُّفَّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، جس صبح میری رخصتی کی گئی تو آپ ﷺ میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے آپ بیٹھے ہیں اور بچیاں دف بجانے لگیں، وہ میرے ابا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ان کا مرثیہ پڑھ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک بچی نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ کل کی بات جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑو وہی بات کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔“
حدیث نمبر: 14689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: كَانَ النِّسَاءُ إِذَا تَزَوَّجَتِ الْمَرْأَةُ أَوِ الرَّجُلُ خَرَجَ جَوَارِي مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ وَيُغَنِّينَ وَيَلْعَبْنَ، قَالَتْ: فَمَرُّوا فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يُغَنِّينَ وَهُنَّ يَقُلْنَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب کسی مرد یا عورت کی شادی ہوتی تو انصاری بچیاں گاتیں اور کھیلتیں۔ سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی ﷺ کا اس مجلس سے گزر ہوا تو وہ بچیاں گاتے ہوئے کہہ رہی تھیں:
اس کے خاوند نے تحفہ میں مینڈھے دیے جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور اس کا خاوند لوگوں میں ایسا انسان ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔
نبی ﷺ ان کی طرف گئے اور فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ کے علاوہ کل کی بات کوئی نہیں جانتا، تم اس طرح کہو:
ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، ہمیں خوش آمدید ہو اور تمہیں مبارک ہو۔“
اس کے خاوند نے تحفہ میں مینڈھے دیے جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور اس کا خاوند لوگوں میں ایسا انسان ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔
نبی ﷺ ان کی طرف گئے اور فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ کے علاوہ کل کی بات کوئی نہیں جانتا، تم اس طرح کہو:
ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، ہمیں خوش آمدید ہو اور تمہیں مبارک ہو۔“
حدیث نمبر: 14690
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو حَاتِمِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُوَيْسِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَاسًا يُغَنُّونَ فِي عُرْسٍ وَهُمْ يَقُولُونَ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے شادی کے موقع پر لوگوں کو گاتے ہوئے سنا کہ اس عورت کو خاوند نے مینڈھے تحفے میں دیے ہیں جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور تیری محبت لوگوں میں سے ایسے انسان کے ساتھ ہے جو کل کی بات کو جانتا ہے۔
یحییٰ کہتے ہیں: تیرا خاوند ایسا انسان ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کل کی بات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“
یحییٰ کہتے ہیں: تیرا خاوند ایسا انسان ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کل کی بات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“
حدیث نمبر: 14691
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ نا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْبَزَّارِيُّ أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو كَامِلٍ الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَنْكَحَتْ ذَا قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " فَأَرْسَلْتُمْ مَنْ تُغَنِّي؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ أَرْسَلْتُمْ مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنی قریبی رشتہ دار عورت کا نکاح کروایا۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”کیا تم نے بچی کو کچھ تحفہ دیا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس کے ساتھ تم نے کسی گانے والی کو بھیجا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”انصاری لوگ گانے کو پسند کرتے ہیں۔ اگر تم بھیج دیتے جو یہ کہتا: «أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيُّونَا نُحَيِّكُمْ» ”ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، ہمیں بھی خوش آمدید اور تمہیں بھی۔““
حدیث نمبر: 14692
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: شَهِدْتُ ثَابِتَ بْنَ وَدِيعَةَ وَقَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا غِنَاءٌ، فَقُلْتُ لَهُمَا فِي ذَلِكَ فَقَالَا: " إِنَّهُ قَدْ رُخِّصَ فِي الْغِنَاءِ فِي الْعُرْسِ وَالْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ فِي غَيْرِ نِيَاحَةٍ " وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ثابت بن ودیعہ اور سیدنا قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک شادی میں موجود تھا جس میں گانا گایا جا رہا تھا تو میں نے ان دونوں سے کہا تو وہ فرمانے لگے: ”شادی کے موقع پر گانے میں رخصت دی گئی ہے اور میت پر بغیر نوحہ کے رونے کی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 14693
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَذَكَرَ ثَالِثًا قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: ذَهَبَ عَلَيَّ وَجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيُغَنِّينَ فَقُلْتُ: تُقِرُّونَ عَلَى هَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: " إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي الْعُرُسَاتِ وَالنِّيَاحَةِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ " وَرَوَاهُ شَرِيكٌ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ قَرَظَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَفِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ قَالَ فِي غَيْرِ نَوْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے تیسرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اور بچیاں دف بجا کر گا رہی تھیں، انہوں نے کہا: ”تم یہاں ٹھہرے ہوئے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”شادی کے موقع پر ہمیں رخصت دی گئی اور مصیبت کے وقت نوحہ کرنے کی۔“
(ب) شریک فرماتے ہیں کہ قرظہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مصیبت کے وقت رونے کی اجازت ہے، شریک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ بغیر نوحہ کے رونے کی۔
(ب) شریک فرماتے ہیں کہ قرظہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مصیبت کے وقت رونے کی اجازت ہے، شریک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ بغیر نوحہ کے رونے کی۔
حدیث نمبر: 14694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو بَلْجٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَصْلٌ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ فِي النِّكَاحِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلال و حرام کے درمیان فاصلہ کرنے والی چیز آواز ہے اور نکاح کے موقع پر دف بجانا۔“
حدیث نمبر: 14695
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْعَنَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ زَعَمَ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ الدُّفَّ لُغَةً، وَالْخَبَرُ بِالْفَتْحِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ الصَّوْتُ فَبَعْضُ النَّاسِ يَذْهَبُ بِهِ إِلَى السَّمَاعِ وَهَذَا خَطَأٌ وَفِيمَا مَعْنَاهُ عِنْدَنَا إِعْلَانُ النِّكَاحِ وَاضْطِرَابُ الصَّوْتِ بِهِ وَالذِّكْرُ فِي النَّاسِ وَلِذَلِكَ قَالَ عُمَرُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دف بجانا نکاح کے موقع پر ہے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ «الدُّفُّ» لغوی اعتبار سے اور «الْخَبَرُ» فتح کے ساتھ لیکن «الصَّوْتُ» یعنی لوگوں کے نزدیک «السَّمَاعُ» مراد ہے، یہ غلطی ہے؛ ہمارے نزدیک اس کا معنی نکاح کا اعلان، آواز پیدا کرنا اور لوگوں میں شہرت کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 14696
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَسَنُ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً سِرًّا فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْهَا فَرَآهُ جَارٌ لَهَا فَقَذَفَهُ بِهَا فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيِّنَتُكَ عَلَى تَزْوِيجِهَا، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَانَ أَمْرٌ دُونَ فَأَشْهَدْتُ عَلَيْهِ أَهْلَهَا فَدَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ عَنْ قَاذِفِهِ، وَقَالَ: " حَصِّنُوا فَرُوجَ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَأَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَنَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے پوشیدہ طور پر ایک عورت سے شادی کر لی، وہ اپنی عورت کے پاس آتا جاتا تھا تو اس کے ہمسائے نے اس عورت کو دیکھ لیا، اس نے تہمت لگا دی اور اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی شادی پر تمہارا کون گواہ ہے؟ تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ایک پوشیدہ معاملہ تھا یا چھوٹا سا کام تھا، میں نے اس کے گھر والوں کو گواہ بنا لیا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تہمت لگانے والے پر حد نہ لگائی اور فرمایا: تم ان عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کرو اور نکاح کا اعلان کیا کرو، اور آپ نے متعہ سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 14697
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتًا، أَوْ دُفًّا قَالَ: مَا هَذَا؟ فَإِنْ قَالُوا: عُرْسٌ أَوْ خِتَانٌ صَمَتَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کوئی آواز یا دف بجتا سنتے تو پوچھتے: یہ کیا ہے؟ اگر وہ کہتے کہ شادی یا ختنہ کی محفل ہے تو وہ خاموش ہو جاتے۔
حدیث نمبر: 14698
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَصْبَغُ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَظْهِرُوا النِّكَاحَ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ " كَذَا قَالَ: وَإِنَّمَا هُوَ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نکاح کو ظاہر کرو اور اس پر دف بجایا کرو۔“
حدیث نمبر: 14699
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ، وَلْيُولِمْ أَحَدُكُمْ وَلَوْ بِشَاةٍ، فَإِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً وَقَدْ خَضَبَ بِالسَّوَادِ فَلْيُعْلِمْهَا وَلَا يَغُرَّنَّهَا " عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نکاح کا اعلان کیا کرو اور نکاح مسجدوں میں کیا کرو اور اس پر دف بجایا کرو اور ولیمہ کیا کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے اور وہ سیاہ رنگ والا ہو تو اس عورت کو بتا دے، دھوکا نہ دے۔“
حدیث نمبر: 14700
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي شِمْرُ بْنُ نُمَيْرٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِبَنِي زُرَيْقٍ فَسَمِعُوا غِنَاءً وَلَعِبًا فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " قَالُوا: نِكَاحُ فُلَانٍ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " كَمَّلَ دِينَهُ هَذَا النِّكَاحُ لَا السِّفَاحُ، وَلَا نِكَاحُ السِّرِّ حَتَّى يُسْمَعَ دُفٌّ أَوْ يُرَى دُخَانٌ " قَالَ حُسَيْنٌ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِالدُّفِّ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بنو زریق کے پاس سے گزرے تو انہوں نے گانے اور کھیل کی آواز کو سنا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فلاں کا نکاح ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح دین کو مکمل کرنے والا ہے نہ کہ زنا اور نکاح پوشیدہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ دف کی آواز سنی جائے یا دھواں دیکھا جائے۔“
(ب) عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پوشیدہ نکاح کرنا ناپسند کرتے تھے حتیٰ کہ اس پر دف بجایا جائے۔
(ب) عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پوشیدہ نکاح کرنا ناپسند کرتے تھے حتیٰ کہ اس پر دف بجایا جائے۔