کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان درآں حالیکہ عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے ہم بستری کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي أَنَّهُ " قَضَى فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ وَنُكِحَتْ بِغَيْرِ مَهْرٍ فَمَاتَ زَوْجُهَا فَقَضَى لَهَا بِمَهْرِ نِسَائِهَا وَقَضَى لَهَا بِالْمِيرَاثِ " فَإِنْ كَانَ يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ أَوْلَى الْأُمُورِ بِنَا وَلَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَثُرُوا وَلَا فِي قِيَاسٍ وَشَيْءٍ فِي قَوْلِهِ إِلَّا طَاعَةَ اللهِ بِالتَّسْلِيمِ لَهُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يُثْبِتَ عَنْهُ مَا لَمْ يَثْبُتْ وَلَمْ أَحْفَظْهُ بَعْدُ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ هُوَ مَرَّةً، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ وَمَرَّةً عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ وَمَرَّةً عَنْ بَعْضِ أَشْجَعَ لَا يُسَمَّى فَإِذَا مَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَلَا مَهْرَ لَهَا وَلَا مُتْعَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ: هَذَا الِاخْتِلَافُ الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ لَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ إِمَامٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے، آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، روایت کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں فیصلہ سنایا، جن کا نکاح حقِ مہر کے بغیر ہوا تھا اور پھر ان کا خاوند فوت ہو گیا۔ ”رسول اللہ ﷺ نے مہرِ مثل کا حکم دیا اور میراث کا فیصلہ دیا“، اگر یہ نبی ﷺ سے ثابت ہو تو یہ ہمارے نزدیک سب سے مقدم ہے، نبی ﷺ کے سوا کسی کا قول قابلِ حجت نہیں، خواہ کہنے والے کتنے ہی زیادہ ہوں، اور نہ ہی قیاس حجت ہے، آپ ﷺ کے قول کے سامنے صرف اللہ کی اطاعت ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے۔ اور اگر یہ نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو تو کسی کو حق نہیں کہ آپ ﷺ کی طرف وہ بات منسوب کرے جو ثابت نہیں، اور مجھے اب تک یہ روایت کسی ایسی سند سے معلوم نہیں ہوئی جس جیسی سند ثابت ہوتی ہو؛ کبھی اسے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے، کبھی معقل بن سنان رضی اللہ عنہ سے اور کبھی قبیلہ اشجع کے کسی ایسے شخص سے بیان کیا جاتا ہے جس کا نام نہیں لیا جاتا۔
لہٰذا جب میاں یا بیوی فوت ہو جائے تو عورت کے لیے نہ حقِ مہر ہے اور نہ فائدہ (متعہ)۔
شیخ رحمہ اللہ بروع بنت واشق کی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ وہ اختلاف ہے جس کا ذکر امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ہے، لیکن عبدالرحمن بن مہدی ائمہ حدیث میں سے ایک امام ہیں۔
لہٰذا جب میاں یا بیوی فوت ہو جائے تو عورت کے لیے نہ حقِ مہر ہے اور نہ فائدہ (متعہ)۔
شیخ رحمہ اللہ بروع بنت واشق کی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ وہ اختلاف ہے جس کا ذکر امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ہے، لیکن عبدالرحمن بن مہدی ائمہ حدیث میں سے ایک امام ہیں۔
وَقَدْ رَوَاهُ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا قَالَ: " لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ " فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ، فَقَالَ " شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ "، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَقَدْ سُمِّيَ فِيهِ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ صَحَابِيٌّ مَشْهُورٌ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ أَحَدُ حُفَّاظِ الْحَدِيثِ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَغَيْرِهِ بِإِسْنَادٍ آخَرَ صَحِيحٍ كَذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شادی کے بعد حق مہر مقرر نہ کیا اور دخول بھی نہ کر سکا اور فوت ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: ”عورت کو مکمل حق مہر ملے گا، وہ عدت گزارے گی اور اس کو میراث بھی ملے گی۔“ تو معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی ﷺ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں ”یہ فیصلہ کیا تھا۔“
یہ سند صحیح ہے، اس میں معقل بن سنان رضی اللہ عنہ کا نام لیا گیا ہے اور وہ مشہور صحابی ہیں، اور حفاظِ حدیث میں سے یزید بن ہارون نے بھی عبدالرحمن بن مہدی وغیرہ کے ساتھ اسے ایک دوسری صحیح سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اس میں معقل بن سنان رضی اللہ عنہ کا نام لیا گیا ہے اور وہ مشہور صحابی ہیں، اور حفاظِ حدیث میں سے یزید بن ہارون نے بھی عبدالرحمن بن مہدی وغیرہ کے ساتھ اسے ایک دوسری صحیح سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٠٠⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ فِي امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَتَرَدَّدُوا إِلَيْهِ وَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَالَ: إِنِّي سَأَقُولُ بِرَأْيِي " لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ " فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَهِدَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ " فَفَرِحَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایسی عورت کا فیصلہ آیا کہ شادی کے بعد خاوند دخول بھی نہ کر سکا، حق مہر بھی مقرر نہ ہوا اور وہ فوت ہو گیا، تو لوگ بار بار ان کے پاس آتے رہے اور اصرار کرتے رہے، آخر انہوں نے اپنی رائے سے بات کی کہ ”اسے اس کے خاندان کی عورتوں جیسا حق مہر ملے گا، نہ کم نہ زیادہ، وہ عدت گزارے گی اور اس کو میراث بھی ملے گی“، تو سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ ان کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق اشجعیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا جیسے آپ نے فیصلہ کیا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ الثَّوْرِيُّ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَعْضُ الرُّوَاةِ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْأَخِيرِ، وَقَالَ: فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنِ الثَّوْرِيِّ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا وَهْمًا..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ولید عدنی نے بھی اسے سفیان سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور (اس میں) ثوری رحمہ اللہ نے کہا: تو سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ لیکن عبدالرزاق رحمہ اللہ، ثوری رحمہ اللہ سے آخری سند سے نقل فرماتے ہیں اور آخر میں ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا۔ اسی طرح بعض راویوں نے یزید بن ہارون کے واسطے سے ثوری سے بھی ذکر کیا ہے۔
میرے خیال میں یہ محض وہم ہے۔
میرے خیال میں یہ محض وہم ہے۔
أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ..
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن سعید رحمہ اللہ نے ذکر کیا اور فرمایا کہ وہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ تھے۔
وَأَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ: فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، وَهَذَا وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ كَمَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق سفیان سے اس کے ہم معنی ذکر کرتے ہیں کہ اگر درست ہو تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلطی ہوئی تو میری جانب سے ہے تو فرمانے لگے: ”اس کے لیے مہرِ مثل، عدت گزارنا اور میراث بھی ہے“ اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، یہ وہم ہے لیکن درست معقل بن سنان رضی اللہ عنہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ رَجُلًا مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي قَالَ: قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ يَسْأَلُ إِذَا لَمْ يَسْأَلْكَ وَأَنْتَ ⦗٤٠١⦘ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَلَدِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ فَقَالَ سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَاللهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ أَرَى أَنْ " أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وعليها الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " قَالَ: وَذَلِكَ يَسْمَعُ ناسٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ قَالَ: فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللهِ فَرِحَ يَوْمَئِذٍ لِشَيْءٍ مَا فَرِحَ إِلَّا بِإِسْلَامِهِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ فِيهِ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ وَرَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ الْأَشْجَعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے کہ ہمارے ایک فرد نے شادی کی، لیکن بیوی سے دخول نہ کر سکا اور حق مہر بھی مقرر نہ کیا اور وہ فوت ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جتنا مشکل یہ سوال مجھے پیش آیا ہے، اتنا کبھی نہ ہوا تھا جب سے میں رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوا۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ وہ ایک مہینہ تک اس بارے میں ان کے پاس آتے جاتے رہے اور آخر کار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ اگر ہم آپ سے سوال نہ کریں تو کس سے کریں؟ اس شہر میں صرف آپ ہی نبی ﷺ کے صحابی ہیں، کوئی اور نہیں ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ پھر میں اپنی رائے سے کہہ دیتا ہوں، اگر درست ہوا تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہوا تو میری جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کے لیے اس کے خاندان کی عورتوں جیسا حق مہر ہے، نہ کم نہ زیادہ، اسے میراث ملے گی اور اس کے ذمہ چار مہینہ دس دن عدت ہے، تو قبیلہ اشجع کے لوگ بھی اس فیصلے کو سن رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے فیصلے کی مانند رسول اللہ ﷺ نے ہماری ایک عورت بروع بنت واثق رضی اللہ عنہا کے بارے میں فیصلہ دیا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اتنی بڑی خوشی کبھی نہ دیکھی تھی سوائے اپنے اسلام لانے کے، پھر انہوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ درست ہے تو یہ تیری اکیلے کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، وَخِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا يُحَدِّثَانِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ شَهْرًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ شَهْرٍ فَقَالُوا: لَا بُدَّ أَنْ تَقُولَ فِيهَا قَالَ: " أَقْضِي أَنَّ لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنْ نَفْسِي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ مِنْ ذَلِكَ " فَقَامَ رَهْطٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ وَكَانَ زَوْجُهَا يُقَالُ لَهُ هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الِاخْتِلَافُ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ رَوَى قِصَّةَ بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُوهِنُ الْحَدِيثَ فَإِنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ أَسَانِيدُهَا صِحَاحٌ وَفِي بَعْضِهَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ⦗٤٠٢⦘ جَمَاعَةً مِنْ أَشْجَعَ شَهِدُوا بِذَلِكَ فَكَأَنَّ الرِّوَايَةَ سَمَّى مِنْهُمْ وَاحِدًا، وَبَعْضُهُمْ سَمَّى اثْنَيْنِ، وَبَعْضُهُمْ أَطْلَقَ وَلَمْ يُسَمِّ وَمِثْلُهُ لَا يَرُدُّ الْحَدِيثَ وَلَوْلَا ثِقَةُ مَنْ رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَا كَانَ لِفَرَحِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِرِوَايَتِهِ مَعْنًى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد کا فیصلہ آیا جس نے شادی کے بعد بیوی سے دخول بھی نہ کیا اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا اور فوت ہو گیا، انہوں نے ایک مہینہ یا مہینہ کے قریب آپس میں اختلاف کیا، انہوں نے آخر کار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اس کے بارے میں کچھ فرمائیں، تو انہوں نے فرمایا: اس کے لیے مہرِ مثل ہے بغیر کسی کمی و زیادتی کے، میراث بھی ہوگی اور عدت بھی گزارے گی۔ اگر درست ہے تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہوا تو میرے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور رسول اس سے بری ہیں۔ اس گروہ میں قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ تھے، ان میں جراح اور ابوسنان رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری عورت بروع بنت واشق کے بارے میں اس طرح فیصلہ فرمایا تھا جس کا خاوند حلال بن مرہ اشجعی تھا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس موافقت پر بڑے ہی خوش ہوئے۔
شیخ فرماتے ہیں: بروع بنت واشق کا قصہ بیان کرتے ہوئے بعض نے کسی کا نام لیا اور بعض نے مطلق چھوڑ دیا، تو اس طرح حدیث کمزور نہیں ہوئی کیونکہ تمام سندیں صحیح ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: بروع بنت واشق کا قصہ بیان کرتے ہوئے بعض نے کسی کا نام لیا اور بعض نے مطلق چھوڑ دیا، تو اس طرح حدیث کمزور نہیں ہوئی کیونکہ تمام سندیں صحیح ہیں۔