السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: أحد الزوجين يموت ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان درآں حالیکہ عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے ہم بستری کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 14411
وَقَدْ رَوَاهُ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا قَالَ: " لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ " فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ، فَقَالَ " شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ "، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَقَدْ سُمِّيَ فِيهِ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ صَحَابِيٌّ مَشْهُورٌ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ أَحَدُ حُفَّاظِ الْحَدِيثِ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ وَغَيْرِهِ بِإِسْنَادٍ آخَرَ صَحِيحٍ كَذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
مسروق حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شادی کے بعد حق مہر مقرر نہ کیا اور دخول بھی نہ کر سکا اور فوت ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: ”عورت کو مکمل حق مہر ملے گا، وہ عدت گزارے گی اور اس کو میراث بھی ملے گی۔“ تو معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی ﷺ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں ”یہ فیصلہ کیا تھا۔“