السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: أحد الزوجين يموت ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان درآں حالیکہ عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے ہم بستری کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 14415
وَأَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ: فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، وَهَذَا وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ كَمَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق سفیان سے اس کے ہم معنی ذکر کرتے ہیں کہ اگر درست ہو تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلطی ہوئی تو میری جانب سے ہے تو فرمانے لگے: ”اس کے لیے مہرِ مثل، عدت گزارنا اور میراث بھی ہے“ اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، یہ وہم ہے لیکن درست معقل بن سنان رضی اللہ عنہ ہے۔