حدیث نمبر: 14416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ رَجُلًا مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي قَالَ: قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ يَسْأَلُ إِذَا لَمْ يَسْأَلْكَ وَأَنْتَ ⦗٤٠١⦘ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَلَدِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ فَقَالَ سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَاللهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ أَرَى أَنْ " أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وعليها الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " قَالَ: وَذَلِكَ يَسْمَعُ ناسٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ قَالَ: فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللهِ فَرِحَ يَوْمَئِذٍ لِشَيْءٍ مَا فَرِحَ إِلَّا بِإِسْلَامِهِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ فِيهِ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ وَرَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ الْأَشْجَعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے کہ ہمارے ایک فرد نے شادی کی، لیکن بیوی سے دخول نہ کر سکا اور حق مہر بھی مقرر نہ کیا اور وہ فوت ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جتنا مشکل یہ سوال مجھے پیش آیا ہے، اتنا کبھی نہ ہوا تھا جب سے میں رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوا۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ انہوں نے ایک مہینہ تک آپس میں اختلاف کیا اور آخر کار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ اگر ہم آپ سے سوال نہ کریں تو کس سے کریں؟ اس شہر میں صرف آپ ہی نبی ﷺ کے صحابی ہیں، کوئی اور نہیں ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ پھر میں اپنی رائے سے کہہ دیتا ہوں، اگر درست ہوا تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہوا تو میری جانب سے ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔ اس عورت کے ذمہ چار مہینہ دس دن عدت ہے، تو قبیلہ اشجع کے لوگ بھی اس فیصلے کو سن رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے فیصلے کی مانند رسول اللہ ﷺ نے ہماری ایک عورت بروع بنت واثق رضی اللہ عنہا کے بارے میں فیصلہ دیا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اتنی بڑی خوشی کبھی نہ دیکھی تھی سوائے اپنے اسلام لانے کے، پھر انہوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ درست ہے تو یہ تیری اکیلے کی جانب سے ہے، اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14416
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»