السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: أحد الزوجين يموت ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان درآں حالیکہ عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے ہم بستری کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٠٠⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ فِي امْرَأَةٍ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَتَرَدَّدُوا إِلَيْهِ وَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَالَ: إِنِّي سَأَقُولُ بِرَأْيِي " لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ " فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَهِدَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ " فَفَرِحَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ..علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایسی عورت کا فیصلہ آیا کہ شادی کے بعد خاوند دخول بھی نہ کر سکا، حق مہر بھی مقرر نہ ہوا اور وہ فوت ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تردد ہوا اور وہ کافی عرصہ اسی طرح رہے، آخر انہوں نے اپنی رائے سے بات کی کہ ”اسے مکمل حق مہر ملے گا، وہ عدت گزارے گی اور اس کو میراث بھی ملے گی“، تو سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ ان کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق اشجعیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا جیسے آپ نے فیصلہ کیا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔