السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: أحد الزوجين يموت ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان درآں حالیکہ عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے ہم بستری کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 14413
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ الثَّوْرِيُّ فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَعْضُ الرُّوَاةِ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْأَخِيرِ، وَقَالَ: فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنِ الثَّوْرِيِّ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا وَهْمًا..حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ولید عدنی نے بھی اسے سفیان سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور (اس میں) ثوری رحمہ اللہ نے کہا: تو سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ لیکن عبدالرزاق رحمہ اللہ، ثوری رحمہ اللہ سے آخری سند سے نقل فرماتے ہیں اور آخر میں ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا۔ اسی طرح بعض راویوں نے یزید بن ہارون کے واسطے سے ثوری سے بھی ذکر کیا ہے۔
میرے خیال میں یہ محض وہم ہے۔