حدیث نمبر: 14410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي أَنَّهُ " قَضَى فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ وَنُكِحَتْ بِغَيْرِ مَهْرٍ فَمَاتَ زَوْجُهَا فَقَضَى لَهَا بِمَهْرِ نِسَائِهَا وَقَضَى لَهَا بِالْمِيرَاثِ " فَإِنْ كَانَ يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ أَوْلَى الْأُمُورِ بِنَا وَلَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَثُرُوا وَلَا فِي قِيَاسٍ وَشَيْءٍ فِي قَوْلِهِ إِلَّا طَاعَةَ اللهِ بِالتَّسْلِيمِ لَهُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يُثْبِتَ عَنْهُ مَا لَمْ يَثْبُتْ وَلَمْ أَحْفَظْهُ بَعْدُ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ هُوَ مَرَّةً، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ وَمَرَّةً عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ وَمَرَّةً عَنْ بَعْضِ أَشْجَعَ لَا يُسَمَّى فَإِذَا مَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَلَا مَهْرَ لَهَا وَلَا مُتْعَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ: هَذَا الِاخْتِلَافُ الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ لَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ إِمَامٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپ ﷺ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں فیصلہ سنایا، جب ان کا خاوند فوت ہو گیا لیکن حقِ مہر مقرر نہ تھا۔ ”رسول اللہ ﷺ نے مہرِ مثل کا حکم دیا اور میراث کا فیصلہ دیا“، اگر یہ نبی ﷺ سے ثابت ہو تو یہ سب سے زیادہ بہتر ہے، وگرنہ جتنے بھی زیادہ لوگ بیان کریں اور قولِ نبی ﷺ کا نہ ہو تو قابلِ حجت نہیں ہے، صرف اللہ کی اطاعت کی جائے گی۔
لیکن بعض حضرات معقل بن یسار رضی اللہ عنہ یا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ یا اشجع سے نقل فرماتے ہیں کہ جب میاں یا بیوی فوت ہو جائے تو حقِ مہر اور فائدہ دینا ضروری نہیں ہوتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14410
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»