حدیث نمبر: 14417
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، وَخِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا يُحَدِّثَانِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ شَهْرًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ شَهْرٍ فَقَالُوا: لَا بُدَّ أَنْ تَقُولَ فِيهَا قَالَ: " أَقْضِي أَنَّ لَهَا صَدَاقَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنْ نَفْسِي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ مِنْ ذَلِكَ " فَقَامَ رَهْطٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ وَكَانَ زَوْجُهَا يُقَالُ لَهُ هِلَالُ بْنُ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيُّ فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَضَاؤُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الِاخْتِلَافُ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ رَوَى قِصَّةَ بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُوهِنُ الْحَدِيثَ فَإِنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ أَسَانِيدُهَا صِحَاحٌ وَفِي بَعْضِهَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ⦗٤٠٢⦘ جَمَاعَةً مِنْ أَشْجَعَ شَهِدُوا بِذَلِكَ فَكَأَنَّ الرِّوَايَةَ سَمَّى مِنْهُمْ وَاحِدًا، وَبَعْضُهُمْ سَمَّى اثْنَيْنِ، وَبَعْضُهُمْ أَطْلَقَ وَلَمْ يُسَمِّ وَمِثْلُهُ لَا يَرُدُّ الْحَدِيثَ وَلَوْلَا ثِقَةُ مَنْ رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَا كَانَ لِفَرَحِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِرِوَايَتِهِ مَعْنًى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد کا فیصلہ آیا جس نے شادی کے بعد بیوی سے دخول بھی نہ کیا اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا اور فوت ہو گیا، انہوں نے ایک مہینہ یا مہینہ کے قریب آپس میں اختلاف کیا، انہوں نے آخر کار سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اس کے بارے میں کچھ فرمائیں، تو انہوں نے فرمایا: اس کے لیے مہرِ مثل ہے بغیر کسی کمی و زیادتی کے، میراث بھی ہوگی اور عدت بھی گزارے گی۔ اگر درست ہے تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر غلط ہوا تو میرے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ اور رسول اس سے بری ہیں۔ اس گروہ میں قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ تھے، ان میں جراح اور ابوسنان رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری عورت بروع بنت واشق کے بارے میں اس طرح فیصلہ فرمایا تھا جس کا خاوند حلال بن مرہ اشجعی تھا، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس موافقت پر بڑے ہی خوش ہوئے۔
شیخ فرماتے ہیں: بروع بنت واشق کا قصہ بیان کرتے ہوئے بعض نے کسی کا نام لیا اور بعض نے مطلق چھوڑ دیا، تو اس طرح حدیث کمزور نہیں ہوئی کیونکہ تمام سندیں صحیح ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14417
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»