أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ " فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَرَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ، ⦗٣٢٦⦘ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ " ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ} [المائدة: ٨٧] الْآيَةَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہ ہوتی تھیں، تو ہم نے خصی ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور ہمیں رخصت دی کہ کسی کپڑے کے عوض وقت مقرر تک کسی عورت سے نکاح کر لیں۔
(ب) ابی عبداللہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کپڑے کے عوض کسی عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کر لیں، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 87] ”اے ایمان والو! اللہ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو۔“
(ب) ابی عبداللہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کپڑے کے عوض کسی عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کر لیں، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 87] ”اے ایمان والو! اللہ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَأَرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ " فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ إِلَى أَجَلٍ بِالشَّيْءِ، زَادَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ ذَكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْإِرْخَاصَ فِي نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَلَمْ يُوَقِّتْ شَيْئًا يَدُلُّ أَهُوَ قَبْلَ خَيْبَرَ أَوْ بَعْدَهَا، وَأَشْبَهَ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ أَنْ يَكُونَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، نَاسِخًا لَهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہ تھیں تو ہم نے خصی ہونا چاہا جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرما دیا اور پھر ہمیں رخصت دی کہ ”کسی مقررہ چیز کے عوض مقررہ مدت تک کسی عورت سے نکاح کر لیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نکاحِ متعہ میں رخصت کا ذکر کیا ہے، لیکن کوئی چیز مقرر نہیں کی کہ یہ خیبر سے پہلے تھا یا بعد میں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث زیادہ مناسب ہے کہ نبی ﷺ نے ”نکاحِ متعہ سے منع فرمایا تھا“ اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ اس کے لیے ناسخ ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نکاحِ متعہ میں رخصت کا ذکر کیا ہے، لیکن کوئی چیز مقرر نہیں کی کہ یہ خیبر سے پہلے تھا یا بعد میں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث زیادہ مناسب ہے کہ نبی ﷺ نے ”نکاحِ متعہ سے منع فرمایا تھا“ اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ اس کے لیے ناسخ ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا نَخْتَصِي؟، قَالَ: " لَا، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ " ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ} [المائدة: ٨٧]، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ مَا دَلَّ عَلَى كَوْنِ ذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ خَيْبَرَ أَوْ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُوُفِّيَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ مِنَ الْهِجْرَةِ وَكَانَ يَوْمَ مَاتَ ابْنَ بِضْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، وَكَانَ الْفَتْحُ فَتْحَ خَيْبَرَ فِي سَنَةِ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَفَتْحُ مَكَّةَ سَنَةَ ثَمَانٍ، فَعَبْدُ اللهِ سَنَةَ الْفَتْحِ كَانَ ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا، وَالشَّبَابُ قَبْلَ ذَلِكَ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جوان تھے، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے خصی ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ ﷺ نے کپڑے کے عوض وقتِ مقررہ تک کسی عورت سے نکاح کی اجازت فرمائی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 87] ”اے ایمان والو! اللہ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو۔“
نوٹ: ابوبکر بن ابی شیبہ کی مسلم میں روایت ہے جو فتحِ مکہ یا فتحِ خیبر سے پہلے ہونے پر دلالت کرتی ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ 32 ہجری میں فوت ہوئے، جب وہ فوت ہوئے تو ان کی عمر تقریباً 60 برس سے زیادہ تھی اور فتحِ خیبر تقریباً 7 ہجری کو ہوئی اور فتحِ مکہ 8 ہجری کو ہوئی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت تقریباً 40 برس کے تھے اور جوانی اس سے پہلے ہوتی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے زمانے میں عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
نوٹ: ابوبکر بن ابی شیبہ کی مسلم میں روایت ہے جو فتحِ مکہ یا فتحِ خیبر سے پہلے ہونے پر دلالت کرتی ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ 32 ہجری میں فوت ہوئے، جب وہ فوت ہوئے تو ان کی عمر تقریباً 60 برس سے زیادہ تھی اور فتحِ خیبر تقریباً 7 ہجری کو ہوئی اور فتحِ مکہ 8 ہجری کو ہوئی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت تقریباً 40 برس کے تھے اور جوانی اس سے پہلے ہوتی ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے زمانے میں عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ⦗٣٢٧⦘ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ "، لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، وَيَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ وَعَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔“
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ”خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ”خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدُ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللهِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " لَا يَرَى بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ بَأْسًا "، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
حسن اور عبداللہ، جو محمد بن علی کے دونوں بیٹے ہیں، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نکاحِ متعہ میں کوئی حرج محسوس نہ فرماتے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّهُ رَجُلٌ تَائِهٌ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ؟ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: زَمَنَ خَيْبَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ جَمَاعَةٍ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ⦗٣٢٨⦘ وَابْنُ عُيَيْنَةَ يَذْهَبُ فِي رِوَايَةِ الْحُمَيْدِيِّ عَنْهُ إِلَى أَنَّ هَذَا التَّارِيخَ إِنَّمَا هُوَ فِي النَّهْيِ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، لَا فِي النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا کہ یہ آدمی راہ سے بھٹکا ہوا ہے، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا“ تھا؟
(ب) بخاری میں ابن عیینہ کی روایت میں زیادتی ہے کہ یہ خیبر کے زمانہ میں ہوا اور حمیدی، ابن عیینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے کے بارے میں ہے نہ کہ نکاحِ متعہ کے بارے میں۔
(ب) بخاری میں ابن عیینہ کی روایت میں زیادتی ہے کہ یہ خیبر کے زمانہ میں ہوا اور حمیدی، ابن عیینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے کے بارے میں ہے نہ کہ نکاحِ متعہ کے بارے میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، ثنا حَسَنٌ، وَعَبْدُ اللهِ، ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَكَانَ حَسَنٌ أَرْضَى مِنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّكَ امْرُؤٌ تَائِهٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ " قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ لَا يَعْنِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ سُفْيَانُ مُحْتَمَلٌ، فَلَوْلَا مَعْرِفَةُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِنَسْخِ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّ النَّهْيَ عَنْهُ كَانَ الْبَتَّةَ بَعْدَ الرُّخْصَةِ لَمَا أَنْكَرَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرَوَى ابْنُ عُمَرَ تَحْرِيمَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ.
حافظ ثناء اللہ
حسن اور عبداللہ، جو دونوں محمد بن علی کے بیٹے ہیں، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ راہ سے بھٹکے ہوئے آدمی ہیں، نبی ﷺ نے ”خیبر کے زمانہ میں نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔“ سفیان کہتے ہیں کہ خیبر کے وقت نبی ﷺ نے ”گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا تھا“، لیکن نکاحِ متعہ سے نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ: " حَرَامٌ "، قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا يَقُولُ فِيهَا، فَقَالَ: " وَاللهِ لَقَدْ عُلِمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ "، قَالَ الشَّيْخُ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي نِكَاحِ الْمُتْعَةِ زَمَنَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ ثُمَّ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حرام ہے۔“ وہ کہنے لگا کہ فلاں تو اس کے بارے میں یوں کہتا ہے! انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ بات معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن اسے حرام کر دیا تھا اور ہم زنا کرنے والے نہ تھے۔“
شیخ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر نکاحِ متعہ کی اجازت دی، پھر قیامت تک کے لیے حرام کر دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر نکاحِ متعہ کی اجازت دی، پھر قیامت تک کے لیے حرام کر دیا۔
وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ: مَا تُعْطِينِي؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدُ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا ⦗٣٢٩⦘ نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلِيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي فَكُنْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ بِهِنَّ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ تَارِيخَهُ، وَقَدْ ذَكَرَهُ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ کی اجازت دی۔ کہتے ہیں: میں اور ایک دوسرا شخص بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے، جو لمبی گردن والی اونٹنی کی مانند تھی۔ ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، اس نے کہا: آپ مجھے کیا دیں گے؟ میں نے کہا: اپنی چادر اور میرے ساتھی نے بھی چادر ہی کا کہا۔ لیکن میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور میں اس سے جوان تھا، جب اس عورت نے میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھا تو اس کو اچھی لگی اور جب میری جانب دیکھا تو میں اس کو خوبصورت لگا۔ پھر اس نے کہا کہ تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے، میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس نکاح متعہ والی عورت ہے، وہ اس کا راستہ چھوڑ دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا خَمْسًا وَثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ: " فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ، أَمَّا بُرْدِي فَخَلَقٌ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَمَا تَبْذُلَانِ؟ قَالَ: فَنَشَرَ كُلٌّ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَإِذَا رَآهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا وَقَالَ: إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ وَبُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ، فَتَقُولُ: وَبُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا، فَلَمْ نَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كَامِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد (رضی اللہ عنہ) نے غزوہ فتحِ مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا، ہم نے پینتیس دن و رات (ملا کر) مکہ میں قیام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ متعہ کی اجازت فرمائی۔ میں اور میری قوم کا ایک شخص، جس سے میں خوبصورت تھا، نکلے، وہ بدصورتی کے قریب تھا اور ہمارے پاس چادریں تھیں، میری چادر پرانی جبکہ میرے چچا کے بیٹے کی چادر نئی تھی، جب ہم مکہ کے اوپر والے یا نیچے والے حصے پر آئے تو ہم ایک نوجوان عورت سے ملے۔ ہم نے کہا: ”کیا آپ سے ہم میں سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے، یعنی نکاحِ متعہ کر سکتا ہے؟“ اس نے کہا: ”تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟“ تو دونوں نے اپنی چادریں بچھا دیں، وہ دونوں مردوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جب اس نے میرے ساتھی کو دیکھا تو اس کی نظر پھر گئی، وہ کہنے لگا کہ اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی ہے، عمدہ ہے، تو وہ کہنے لگی: ”اس کی چادر میں کوئی خرابی نہیں ہے“، دو یا تین مرتبہ اس نے یہی کہا، پھر میں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور حرمت تک بھی اس کے پاس رہا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَى عَنْهُ"، لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن ربیع بن سبرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فتح مکہ کے موقع پر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے ”نکاح متعہ کی اجازت دے دی“، پھر ہم ابھی مکہ سے نکلے بھی نہ تھے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٣٣٠⦘ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي الرَّبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَاءِ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ حَتَّى وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَخَطَبْنَاهَا إِلَى نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي، وَتَرَى بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَى صَاحِبِي فَكُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ اپنے والد سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے صحابہ کو نکاحِ متعہ کی اجازت دی، میں اور میرا ساتھی جو بنو سلیم سے تھا، نکلے تو ہم بنو عامر کی ایک لمبی گردن والی نوجوان عورت سے ملے اور اسے نکاحِ متعہ کا پیغام دیا اور اپنی چادریں اس پر پیش کیں، وہ ہمیں دیکھنے لگی اور اس نے مجھے میرے ساتھی سے زیادہ خوبصورت دیکھا اور میری چادر سے میرے ساتھی کی چادر کو عمدہ پایا۔ پھر اس نے اپنے دل سے مشورہ کیا، پھر میرے ساتھی پر مجھے ترجیح دی۔ وہ میرے پاس تین دن رہی، پھر نبی ﷺ نے ان کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيِّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ قَالَ: " إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ "، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ عَبْدَانَ قَوْلَهُ " وَمَنْ كَانَ أَعْطَى " إِلَى آخِرِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ متعہ سے منع فرمایا اور فرمایا: ”یہ آج کے دن کے بعد قیامت تک کے لیے حرام ہے اور جس نے کچھ دے رکھا ہے وہ واپس نہ لے۔“ اور ابن عبدان نے «وَمَنْ كَانَ أَعْطَىٰ» ”اور جس نے کچھ دے رکھا ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ، أَلَا وَإِنَّ اللهَ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ دُونَ ذِكْرِ التَّارِيخِ فِيهِ، ⦗٣٣١⦘ وَرَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ مُؤَرِّخًا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ اپنے والد (سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دروازے اور رکن کے درمیان میں کھڑے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! میں نے تمہیں نکاحِ متعہ کی اجازت دی تھی، لیکن اب اللہ نے اس کو قیامت تک حرام کر دیا ہے اور جس کے پاس کوئی ایسی عورت ہو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے اور ان کو دی ہوئی چیز واپس نہ لے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ، فَقَامَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُقَالُ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْضِ قَضَاءً كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، قَالَ: " إِنَّ اللهَ أَدْخَلَ عَلَيْكُمْ فِي حَجَّتِكُمْ هَذِهِ عَمْرَةً فَإِذَا أَنْتُمْ قَدِمْتُمْ فَمَنْ تَطَوَّفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَحِلُّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْهَدْيِ "، فَلَمَّا أَحْلَلْنَا قَدِ اسْتَمْتَعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا التَّزْوِيجُ فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " افْعَلُوا "، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِي بُرْدٌ وَمَعَهُ بُرْدٌ، وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَأَعْجَبَهَا بُرْدُهُ، وَأَعْجَبَهَا شَبَابِي، قَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، فَبِتُّ عِنْدَهَا لَيْلَةً فَأَصْبَحْتُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ، وَالْمَقَامِ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ أَلَا وَإِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ بَقِيَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا "،.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے اور عسفان نامی جگہ پر پڑاؤ کیا تو بنو مدلج کا ایک آدمی کھڑا ہوا، جو سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ رضی اللہ عنہ تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فیصلہ فرمائیں گویا کہ وہ آج ہی پیدا کیے گئے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے حج میں عمرہ بھی داخل کر دیا ہے، جس وقت تم مکہ آؤ تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد تم حلال ہو لیکن جو اپنی قربانی ساتھ لائے وہ حلال نہیں ہے۔“ جب ہم حلال ہو گئے، فرمایا: ”عورتوں سے متعہ کر لیا کرو۔“ اور متعہ ہمارے نزدیک نکاح کرنا ہے، ہم نے عورتوں پر پیش کیا تو انہوں نے معین مدت کا مطالبہ کر دیا، تو ہم نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا ہی کرو۔“ کہتے ہیں: میں اور میرے چچا کا بیٹا نکلے، ہمارے پاس چادریں تھیں اور اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور میں اس سے خوبصورت تھا، ہم ایک عورت کے پاس آئے تو اسے میری خوبصورتی اور جوانی اور اس کی چادر پسند آئی تو وہ کہنے لگی کہ چادر چادر جیسی ہے، تو میرے اور اس کے درمیان دس دن کی مدت مقرر ہوئی، میں نے اس کے پاس رات گزاری، جب صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے تھے اور فرما رہے تھے: ”اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے نکاحِ متعہ کی اجازت دی تھی، لیکن اب میں قیامت تک اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ جس کی کوئی چیز ان عورتوں کے پاس باقی ہو وہ ان کا راستہ چھوڑ دے اور کچھ واپس نہ لو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغُوا عُسْفَانَ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَكَابِرِ كَابْنِ جُرَيْجٍ، وَالثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ، فَرِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ اپنے والد (سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عسفان نامی جگہ تک پہنچ گئے، تو بنو مدلج کے ایک شخص نے آپ ﷺ سے بات کی۔
(ب) یہ عبدالعزیز بن عمر کا وہم ہے؛ ربیع بن سبرہ سے جمہور نقل فرماتے ہیں کہ یہ فتح مکہ کے وقت کی بات ہے۔
(ب) یہ عبدالعزیز بن عمر کا وہم ہے؛ ربیع بن سبرہ سے جمہور نقل فرماتے ہیں کہ یہ فتح مکہ کے وقت کی بات ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ فِي أَصَحِّ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے وقت ”نکاحِ متعہ“ سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ وَزَادَ فِيهِ: عَامَ الْفَتْحِ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سبرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”نکاحِ متعہ سے منع فرمایا“ اور سفیان نے زیادہ کیا ہے کہ فتحِ مکہ کے موقع پر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر نکاحِ متعہ سے منع فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ فَتَذَاكَرْنَا مُتْعَةَ النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ "، كَذَا قَالَ، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْلَى، وَحَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْإِذْنِ فِيهِ ثُمَّ النَّهْيِ عَنْهُ مُوَافِقٌ لِحَدِيثِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھے تو ہم نے آپس میں نکاح متعہ کے بارے میں بات کی۔ ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ”نکاح متعہ سے منع فرمایا۔“
(ب) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث اجازت کے بارے میں ہے، پھر ان سے نہی بھی منقول ہے سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی حدیث کے موافق۔
انہوں نے ایسے ہی کہا ہے، لیکن زہری سے جماعت کی روایت زیادہ بہتر ہے۔
(ب) سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث اجازت کے بارے میں ہے، پھر ان سے نہی بھی منقول ہے سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی حدیث کے موافق۔
انہوں نے ایسے ہی کہا ہے، لیکن زہری سے جماعت کی روایت زیادہ بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ عَامَ أَوْطَاسٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَامُ أَوْطَاسٍ، وَعَامُ الْفَتْحِ وَاحِدٌ، فَأَوْطَاسٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَعْدَ الْفَتْحِ فَكَانَتْ فِي عَامِ الْفَتْحِ بَعْدَهُ بِيَسِيرٍ، فَمَا نَهَى عَنْهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى عَامِ أَحَدِهِمَا أَوْ إِلَى الْآخَرِ، وَفِي رِوَايَةِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ مَا دَلَّ ⦗٣٣٣⦘ عَلَى أَنَّ الْإِذْنَ فِيهِ كَانَ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَقَعَ التَّحْرِيمُ كَهُوَ فِي رِوَايَةِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَرِوَايَتُهُمَا تَرْجِعُ إِلَى وَقْتٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ إِنْ كَانَ الْإِذْنُ فِي رِوَايَةِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ بَعْدَ الْفَتْحِ فِي غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ فَقَدْ نُقِلَ نَهْيُهُ عَنْهَا بَعْدَ الْإِذْنِ فِيهَا وَلَمْ يَثْبُتِ الْإِذْنُ فِيهَا بَعْدَ غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ، فَبَقِيَ تَحْرِيمُهَا إِلَى الْأَبَدِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فَإِنْ زَعَمَ زَاعِمٌ أَنَّهُ نُهِيَ بِضَمِّ النُّونِ وَكَسْرِ الْهَاءِ، وَأَنَّ الْمُرَادَ بِالنَّاهِي فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَالْمَحْفُوظُ عِنْدَنَا ثُمَّ نَهَى بِفَتْحِ الْهَاءِ وَالنُّونِ، وَرَأَيْتُهُ فِي كِتَابِ بَعْضِهِمْ بِالْأَلِفِ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ عَلَى أَنَّهَا إِنْ كَانَتِ الرِّوَايَةُ نُهِيَ بِضَمِّ النُّونِ وَكَسْرِ الْهَاءِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالنَّاهِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحْتَمَلُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرِوَايَةُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَاطِعَةٌ بِأَنَّ النَّاهِيَ عَنْهَا فِي هَذَا الْعَامِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكُونُ أَوْلَى مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَبْهَمَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایاس بن سلمہ بن اکوع رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اوطاس والے سال ”نکاحِ متعہ کی تین دن کے لیے اجازت دی، پھر اس کے بعد منع فرما دیا“۔
(ب) عامِ اوطاس اور عامِ فتحِ مکہ ایک ہی سال ہے۔ اوطاس اگرچہ فتح کے بعد تھا لیکن فتح ہی کے سال اس کے تھوڑا عرصہ بعد تھا، تو کوئی حرج نہیں کہ ممانعت کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے سال کی طرف منسوب کیا جائے۔ سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تین دن کی اجازت کے بعد پھر ابدی حرمت ہے“، تو سبرہ بن معبد اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما کی روایات ایک ہی وقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت میں اجازت فتح کے بعد ہے غزوہ اوطاس میں، تو ان سے نہی اجازت کے بعد منقول ہے، لیکن غزوہ اوطاس کے بعد اجازت منقول نہیں ہے۔ بہرکیف مبہم روایت سے واضح روایات کی زیادہ اہمیت ہے۔
(ب) عامِ اوطاس اور عامِ فتحِ مکہ ایک ہی سال ہے۔ اوطاس اگرچہ فتح کے بعد تھا لیکن فتح ہی کے سال اس کے تھوڑا عرصہ بعد تھا، تو کوئی حرج نہیں کہ ممانعت کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے سال کی طرف منسوب کیا جائے۔ سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تین دن کی اجازت کے بعد پھر ابدی حرمت ہے“، تو سبرہ بن معبد اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما کی روایات ایک ہی وقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت میں اجازت فتح کے بعد ہے غزوہ اوطاس میں، تو ان سے نہی اجازت کے بعد منقول ہے، لیکن غزوہ اوطاس کے بعد اجازت منقول نہیں ہے۔ بہرکیف مبہم روایت سے واضح روایات کی زیادہ اہمیت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ " سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ "، فَقَالَ مَوْلًى لَهُ: " إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي الْجِهَادِ وَالنِّسَاءُ قَلِيلٌ " قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " صَدَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال ہوا تو ان کے غلام نے کہا: یہ جہاد میں تھا، جب عورتوں کی قلت ہوئی، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عِمْرَانُ، وَابْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، " فَرَخَّصَ فِيهَا "، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ: " إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ، وَالْحَالُ شَدِيدٌ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَعَمْ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی رخصت دی، تو ان کے غلام نے کہا: یہ تو صرف اس وقت تھا جب عورتیں کم اور حالات سخت تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" قَامَ بِمَكَّةَ فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ" وَيُعَرِّضُ بِالرَّجُلِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ: " إنك جِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللهِ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: مَهْلًا مَا هِيَ وَاللهِ، لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ: إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ يُضْطَرُّ ⦗٣٣٤⦘ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ" نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَسَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى..
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں کھڑے ہو کر فرمایا: کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے اسی طرح اندھا کر دیا ہے جیسے ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے، وہ نکاحِ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں، اور وہ ایک شخص کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس شخص نے انہیں پکارا اور کہا: آپ بڑے سخت مزاج اور اکھڑ ہیں۔ میری عمر کی قسم! یہ نکاحِ متعہ امام المتقین یعنی رسول اللہ ﷺ کے دور میں کیا جاتا تھا، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اپنے اوپر تجربہ کر لو۔ اللہ کی قسم! اگر تو نے ایسا کیا تو میں تجھے تیرے پتھروں کے ذریعے رجم کر دوں گا۔
(ب) خالد بن مہاجر بن سیف اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص نے آکر نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا ٹھہرو۔ فرمانے لگے: یہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا تو ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، جب انسان مردار، خون، خنزیر کے گوشت کو مجبوری کی حالت میں کھا سکتا ہے، پھر اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو اس سے منع فرما دیا۔
(ج) ربیع بن سبرہ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض نکاحِ متعہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ متعہ سے منع فرما دیا۔
(د) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔
(ب) خالد بن مہاجر بن سیف اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص نے آکر نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا ٹھہرو۔ فرمانے لگے: یہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا تو ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، جب انسان مردار، خون، خنزیر کے گوشت کو مجبوری کی حالت میں کھا سکتا ہے، پھر اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو اس سے منع فرما دیا۔
(ج) ربیع بن سبرہ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض نکاحِ متعہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ متعہ سے منع فرما دیا۔
(د) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يُعَرِّضُ بِابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، وَيَغْمِصُ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ، فَأَبَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ يَنْتَكِلَ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى طَفِقَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ
ابن وہب رحمہ اللہ بھی اس کی مانند ذکر کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نشانہ بناتے تھے اور اس کے آخر میں زیادتی کی کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: مجھے عبیداللہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جوازِ متعہ کا فتویٰ دیا کرتے تھے، جب اہل علم نے اس پر طعن کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا کہ اپنے اس فتویٰ سے رجوع کریں۔ حتیٰ کہ بعض شعراء ان کے متعلق یہ اشعار پڑھنے لگے: اے صاحب! کیا تجھے ابن عباس کی نوجوان عورتوں میں کوئی حاجت ہے؟ کیا تجھے ناز و نعمت والی تر و تازہ میں حاجت ہے جو لوگوں کے کھیلنے تک تیرا ٹھکانا ہو؟ فرماتے ہیں: پھر اہل علم کا اس کی گندگی اور ان عورتوں سے بغض مزید بڑھ گیا حتیٰ کہ یہ اشعار کہے گئے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاذَا صَنَعْتَ؟ ذَهَبَتِ الرَّكَائِبُ بِفُتْيَاكَ، وَقَالَ فِيهِ الشُّعَرَاءُ، فَقَالَ: وَمَا قَالُوا؟ قَالَ: قَالَ الشَّاعِرُ:.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ نے کیا کیا کہ سواریاں آپ کے فتویٰ کی وجہ سے چلی گئیں۔ اور شعراء نے بات کی تو فرماتے ہیں: شعراء نے کیا کہا ہے؟ فرمانے لگے کہ شعراء کہتے ہیں:
”میں نے شیخ سے کہا، جب مجلس لمبی ہوگئی، اے آواز دینے والے! کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتویٰ میں تیرے لیے کچھ ہے۔“
”اے چیخنے والے! کیا تیرے لیے سفید رنگ کی نازک اندام عورت ہے کہ تو لوگوں کے چلنے تک اس کے پاس جگہ پکڑے۔“
(ب) ابو خالد منہال سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے کہا جب مجلس لمبی ہوئی اور دوسرے شعر میں کہا کہ کیا آپ نے قریبی رشتہ دار جوان لڑکی میں اجازت دی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا تو یہ ارادہ ہی نہ تھا اور نہ ہی میں نے متعہ کا فتویٰ دیا ہے۔ متعہ تو صرف مجبور آدمی کے لیے حلال ہے، اس کی حیثیت تو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی ہے۔
”میں نے شیخ سے کہا، جب مجلس لمبی ہوگئی، اے آواز دینے والے! کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتویٰ میں تیرے لیے کچھ ہے۔“
”اے چیخنے والے! کیا تیرے لیے سفید رنگ کی نازک اندام عورت ہے کہ تو لوگوں کے چلنے تک اس کے پاس جگہ پکڑے۔“
(ب) ابو خالد منہال سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے کہا جب مجلس لمبی ہوئی اور دوسرے شعر میں کہا کہ کیا آپ نے قریبی رشتہ دار جوان لڑکی میں اجازت دی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا تو یہ ارادہ ہی نہ تھا اور نہ ہی میں نے متعہ کا فتویٰ دیا ہے۔ متعہ تو صرف مجبور آدمی کے لیے حلال ہے، اس کی حیثیت تو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ ثُمَّ الْهَرَوِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ خَتَنَةَ، عَنْ ⦗٣٣٥⦘ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتْعَةِ: " هِيَ حَرَامٌ كَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ "، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے متعہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حرام ہے جیسے مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَحَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَا: ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَكَانُوا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ} [النساء: ٢٤] بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ الْآيَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَزَّوَّجُ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِهِ لِتَحْفَظَ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحُ لَهُ شَأْنَهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَنَسَخَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُولَى فَحُرِّمَتِ الْمُتْعَةُ، وَتَصْدِيقُهَا مِنَ الْقُرْآنِ {إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} [المؤمنون: ٦] وَمَا سِوَى هَذَا الْفَرْجِ فَهُوَ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ متعہ اسلام کی ابتدا میں تھا اور وہ یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [سورة النساء: 24]، جب کوئی شخص ایسے شہر میں آتا جہاں پر اس کی پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنی ضرورت سے فراغت تک وہاں شادی کر لیتا تاکہ اس کے سامان کی حفاظت بھی رہے اور اپنی حالت بھی درست رہے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ﴾ [سورة النساء: 23]، اللہ نے پہلے حکم کو منسوخ کر دیا تو اس سے متعہ خارج ہو گیا اور اس کی تصدیق قرآن میں ہے: ﴿إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ﴾ [سورة المؤمنون: 6]، اس کے علاوہ تمام شرمگاہیں حرام ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فَقَالَ جَابِرٌ: فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو نضرہ کہتے ہیں: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ کسی آنے والے نے کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما دونوں متعہ کے بارے میں اختلاف رکھتے تھے، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں متعہ کرتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منع فرما دیا، اس کے بعد ہم نے نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ " يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ "، وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " يَأْمُرُ بِهَا " قَالَ: عَلَى يَدِيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الرَّسُولُ، وَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هَذَا الْقُرْآنُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَنْهَى عَنْهُمَا وَأُعَاقِبُ عَلَيْهِمَا، إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ النِّسَاءِ وَلَا أَقْدِرُ عَلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلَّا غَيَّبْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ الْحَجِّ افْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ الشيخُ: وَنَحْنُ لَا نَشُكُّ فِي كَوْنِهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّا وَجَدْنَاهُ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ بَعْدَ الْإِذْنِ فِيهِ ثُمَّ لَمْ نَجِدْهُ أَذِنَ فِيهِ بَعْدَ النَّهْيِ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ نَهْيُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ مُوَافِقًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٣٦⦘ فَأَخَذْنَا بِهِ وَلَمْ نَجِدْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فِي رِوَايَةٍ صَحِيحَةٍ عَنْهُ، وَوَجَدْنَا فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ لِيَكُونَ أَتَمَّ لَهُمَا فَحَمَلْنَا نَهْيَهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ عَنِ التَّنْزِيهِ، وَعَلَى اخْتِيَارِ الْأَفْرَادِ عَلَى غَيْرِهِ لَا عَلَى التَّحْرِيمِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما متعہ سے منع کرتے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما متعہ کا حکم فرماتے، وہ کہتے ہیں: میرے سامنے حدیث تھی کہ ہم نے نبی ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ متعہ کیا، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ یقیناً یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور یہ قرآن ہے، متعہ کی رسول اللہ ﷺ کے دور میں اجازت تھی لیکن میں ان دونوں متعوں سے منع کرتا ہوں اور ان کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہوں: (1) عورتوں سے متعہ کرنا، میں نے جس آدمی کو بھی پکڑ لیا، پتھر مار مار کر رجم کر دوں گا۔ (2) اور دوسرا متعہ یعنی حج میں فائدہ اٹھانا، تم اپنے حج کو عمرہ سے جدا کرو، یقیناً تمہارا حج کو پورا کرنے والا عمرہ کو زیادہ احسن انداز سے پورا کرنے والا ہے۔
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ان کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن نکاحِ متعہ سے تو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال اجازت کے بعد منع فرما دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وفات تک اس کی اجازت نہ دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کی سنت کی موافقت کی بنا پر منع فرمایا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع سے منع نہ فرمایا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع فرمایا، ان کے نزدیک حج و عمرہ کو الگ الگ کرنا افضل ہے تاکہ حج و عمرہ کو مکمل طور پر احسن انداز سے ادا کیا جائے، لیکن حج تمتع سے ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ان کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن نکاحِ متعہ سے تو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال اجازت کے بعد منع فرما دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وفات تک اس کی اجازت نہ دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کی سنت کی موافقت کی بنا پر منع فرمایا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع سے منع نہ فرمایا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع فرمایا، ان کے نزدیک حج و عمرہ کو الگ الگ کرنا افضل ہے تاکہ حج و عمرہ کو مکمل طور پر احسن انداز سے ادا کیا جائے، لیکن حج تمتع سے ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، بِمَكَّةَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَعِدَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْكِحُونَ هَذِهِ الْمُتْعَةَ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، أَلَا وَإِنِّي لَا أُوتَى بِأَحَدٍ نَكَحَهَا إِلَّا رَجَمْتُهُ "، فَهَذَا إِنْ صَحَّ يُبَيِّنُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ لِأَنَّهُ عَلِمَ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ عورتوں سے نکاحِ متعہ کرتے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، جس کو میں نے پکڑ لیا تو اسے رجم کر دوں گا۔“ اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نکاحِ متعہ سے منع فرمایا تھا؛ کیونکہ وہ اس کی ممانعت رسول اللہ ﷺ سے جانتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ، دَخَلَتْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ مُوَلَّدَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ فَخَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَزِعًا، فَقَالَ: " هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ ربیعہ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ایک مولدہ عورت سے نکاحِ متعہ کیا، تو وہ اس سے حاملہ ہو گئی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھبرا کر اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے گھر سے نکلے اور فرمانے لگے: یہی متعہ ہے، اگر میں اس بارے میں پہلے سے تنبیہ کر چکا ہوتا تو اس کو رجم کر دیتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ: " حَرَامٌ، أَمَا إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَوْ أَخَذَ فِيهَا أَحَدٌ لَرَجَمَهُ بِالْحِجَارَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نکاحِ متعہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: حرام۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اگر کسی کو اس بارے میں پکڑتے تو اسے پتھروں سے رجم فرما دیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: " بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَرَأَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} [المؤمنون: ٦] فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ مَا زَوَّجَهُ اللهُ أَوْ مَلَّكَهُ فَقَدْ عَدَا " وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں سے نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے اور ان کے درمیان اللہ کی کتاب ہے“ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حَافِظُوْنَ ۙ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ ۚ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُوْنَ﴾ [سورة المؤمنون: 5-7] ”وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے، اس میں وہ ملامت نہیں کیے گئے، جس نے اس کے بعد زیادتی کی یہ لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔“ جس نے اس کے علاوہ کسی کو تلاش کیا جس سے اللہ نے اس کی شادی کردی یا اس کا مالک بنادیا تو اس نے زیادتی کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْكِحَ امْرَأَةً إِلَّا نِكَاحَ الْإِسْلَامِ يُمْهِرُهَا وَيَرِثُهَا وَتَرِثُهُ وَلَا يُقَاضِيهَا عَلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ إِنَّهَا امْرَأَتُهُ فَإِنْ مَاتَ أَحَدُهُمَا لَمْ يَتَوَارَثَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کسی شخص کے لیے نکاحِ اسلام کے علاوہ کوئی نکاح جائز نہیں ہے، وہ اس کا حق مہر ادا کرتا ہے، مرد و عورت ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں اور ایک وقت معین کا فیصلہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس کی بیوی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: " إِنَّمَا أُحِلَّتْ لَنَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَةُ النِّسَاءِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ متعہ صرف ہم اصحابِ رسول اللہ ﷺ کے لیے ”تین دن کے لیے حلال کیا گیا تھا“، پھر رسول اللہ ﷺ نے ”اس سے منع فرما دیا“ تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُمَرَ، أنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سُلَيْمٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: " إِنْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ لِخَوْفِنَا وَلِحَرْبِنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نکاحِ متعہ تو خوف اور لڑائی کی وجہ سے تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَبَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا: ثنا مُؤَمَّلٌ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَنَزَلَ بِثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ فَرَأَى نِسَاءً يَبْكِينَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " قِيلَ: نِسَاءٌ تَمَتَّعَ بِهِنَّ أَزْوَاجُهُنَّ ثُمَّ فَارَقُوهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّمَ أَوْ هَدَمَ الْمُتْعَةَ النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالْعِدَّةُ وَالْمِيرَاثُ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ مُؤَمَّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے تو ہم نے ثنیۃ الوداع میں پڑاؤ کیا، آپ ﷺ نے عورتوں کو روتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ عرض کیا گیا: ان سے مردوں نے متعہ کر کے ان کو جدا کر دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حرام ہے“ یا فرمایا: ”نکاحِ متعہ ختم ہے، یعنی نکاح، طلاق، عدت اور میراث نے متعہ کو ختم کر دیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " نَسَخَ الْمُتْعَةَ الْمِيرَاثُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میراث نے متعہ کو ختم کر دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُتْعَةِ. قَالَ عُقْبَةُ: وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ تُرِكَ ذَاكَ. قَالَ: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُصَفَّى، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فِي آخِرِهِ ثُمَّ جَاءَ تَحْرِيمُهَا بَعْدُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ بِنَسْخِ ذَلِكَ، يَعْنِي الْمُتْعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
قیس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث کے آخر میں ہے کہ ”نکاحِ متعہ ترک کر دیا گیا۔“
(ب) ابن عیینہ حضرت اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ ”اس کے بعد اس کی حرمت نازل ہوئی۔“
(ب) ابن عیینہ حضرت اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ ”اس کے بعد اس کی حرمت نازل ہوئی۔“
…