وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَقَالَتْ: مَا تُعْطِينِي؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدُ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ فَإِذَا ⦗٣٢٩⦘ نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا وَإِذَا نَظَرَتْ إِلِيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي فَكُنْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ بِهِنَّ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ تَارِيخَهُ، وَقَدْ ذَكَرَهُ غَيْرُهُ.ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ کی اجازت دی۔ کہتے ہیں: میں اور ایک دوسرا شخص بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے، جو لمبی گردن والی اونٹنی کی مانند تھی۔ ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، اس نے کہا: آپ مجھے کیا دیں گے؟ میں نے کہا: اپنی چادر اور میرے ساتھی نے بھی چادر ہی کا کہا۔ لیکن میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور میں اس سے جوان تھا، جب اس عورت نے میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھا تو اس کو اچھی لگی اور جب میری جانب دیکھا تو میں اس کو خوبصورت لگا۔ پھر اس نے کہا کہ تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے، میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس نکاح متعہ والی عورت ہے، وہ اس کا راستہ چھوڑ دے۔“