أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ " يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ "، وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " يَأْمُرُ بِهَا " قَالَ: عَلَى يَدِيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الرَّسُولُ، وَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هَذَا الْقُرْآنُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَنْهَى عَنْهُمَا وَأُعَاقِبُ عَلَيْهِمَا، إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ النِّسَاءِ وَلَا أَقْدِرُ عَلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلَّا غَيَّبْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ الْحَجِّ افْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ الشيخُ: وَنَحْنُ لَا نَشُكُّ فِي كَوْنِهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّا وَجَدْنَاهُ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ بَعْدَ الْإِذْنِ فِيهِ ثُمَّ لَمْ نَجِدْهُ أَذِنَ فِيهِ بَعْدَ النَّهْيِ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ نَهْيُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ مُوَافِقًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٣٦⦘ فَأَخَذْنَا بِهِ وَلَمْ نَجِدْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فِي رِوَايَةٍ صَحِيحَةٍ عَنْهُ، وَوَجَدْنَا فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ لِيَكُونَ أَتَمَّ لَهُمَا فَحَمَلْنَا نَهْيَهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ عَنِ التَّنْزِيهِ، وَعَلَى اخْتِيَارِ الْأَفْرَادِ عَلَى غَيْرِهِ لَا عَلَى التَّحْرِيمِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما متعہ سے منع کرتے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما متعہ کا حکم فرماتے، وہ کہتے ہیں: میرے سامنے حدیث تھی کہ ہم نے نبی ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ متعہ کیا، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ یقیناً یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور یہ قرآن ہے، متعہ کی رسول اللہ ﷺ کے دور میں اجازت تھی لیکن میں ان دونوں متعوں سے منع کرتا ہوں اور ان کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہوں: (1) عورتوں سے متعہ کرنا، میں نے جس آدمی کو بھی پکڑ لیا، پتھر مار مار کر رجم کر دوں گا۔ (2) اور دوسرا متعہ یعنی حج میں فائدہ اٹھانا، تم اپنے حج کو عمرہ سے جدا کرو، یقیناً تمہارا حج کو پورا کرنے والا عمرہ کو زیادہ احسن انداز سے پورا کرنے والا ہے۔
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ان کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن نکاحِ متعہ سے تو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال اجازت کے بعد منع فرما دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وفات تک اس کی اجازت نہ دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کی سنت کی موافقت کی بنا پر منع فرمایا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع سے منع نہ فرمایا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع فرمایا، ان کے نزدیک حج و عمرہ کو الگ الگ کرنا افضل ہے تاکہ حج و عمرہ کو مکمل طور پر احسن انداز سے ادا کیا جائے، لیکن حج تمتع سے ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔