وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" قَامَ بِمَكَّةَ فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ" وَيُعَرِّضُ بِالرَّجُلِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ: " إنك جِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللهِ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: مَهْلًا مَا هِيَ وَاللهِ، لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ: إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ يُضْطَرُّ ⦗٣٣٤⦘ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ" نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَسَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى..عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں قیام کیا تو فرمانے لگے: اللہ نے لوگوں کے دل اور آنکھیں اندھی کر دی ہیں، وہ نکاحِ متعہ میں آزمائے جاتے ہیں اور کسی مرد کو نشانہ بناتے ہیں، انہوں نے اس کو آواز دی، کہنے لگے: آپ بڑے سخت مزاج ہیں۔ یہ نکاحِ متعہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اپنے اوپر تجربہ کر لو۔ اللہ کی قسم! اگر تو نے ایسا کیا تو میں تجھے تیرے پتھروں کے ذریعے رجم کر دوں گا۔
(ب) خالد بن مہاجر بن سیف اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، یعنی ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تو ایک شخص نے آکر نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا ٹھہرو۔ فرمانے لگے: یہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا تو ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، جب انسان مردار، خون، خنزیر کے گوشت کو مجبوری کی حالت میں کھا سکتا ہے، پھر اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو اس سے منع فرما دیا۔
(ج) ربیع بن سبرہ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض نکاحِ متعہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ متعہ سے منع فرما دیا۔
(د) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔