وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يُعَرِّضُ بِابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، وَيَغْمِصُ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ، فَأَبَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ يَنْتَكِلَ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى طَفِقَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَقُولُ:.ابن وہب رحمہ اللہ بھی اس کی مانند ذکر کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نشانہ بناتے تھے اور اس کے آخر میں زیادتی کی کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: مجھے عبیداللہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جوازِ متعہ کا فتویٰ دیا کرتے تھے، جب اہل علم نے اس پر طعن کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا کہ اپنے اس فتویٰ سے رجوع کریں۔ حتیٰ کہ بعض شعراء ان کے متعلق یہ اشعار پڑھنے لگے: اے صاحب! کیا تجھے ابن عباس کی نوجوان عورتوں میں کوئی حاجت ہے؟ کیا تجھے ناز و نعمت والی تر و تازہ میں حاجت ہے جو لوگوں کے کھیلنے تک تیرا ٹھکانا ہو؟ فرماتے ہیں: پھر اہل علم کا اس کی گندگی اور ان عورتوں سے بغض مزید بڑھ گیا حتیٰ کہ یہ اشعار کہے گئے۔