حدیث نمبر: 14150
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا خَمْسًا وَثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ: " فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ، أَمَّا بُرْدِي فَخَلَقٌ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلَاهَا فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ فَقُلْنَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَمَا تَبْذُلَانِ؟ قَالَ: فَنَشَرَ كُلٌّ مِنَّا بُرْدَهُ فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَإِذَا رَآهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا وَقَالَ: إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ وَبُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ، فَتَقُولُ: وَبُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا، فَلَمْ نَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كَامِلٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد (رضی اللہ عنہ) نے غزوہ فتحِ مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا، ہم نے پندرہ دن و رات مکہ میں قیام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ متعہ کی اجازت فرمائی۔ میں اور میری قوم کا ایک شخص، جس سے میں خوبصورت تھا، نکلے، وہ دمامہ کے قریب تھا اور ہمارے پاس چادریں تھیں، میری چادر پرانی جبکہ میرے چچا کے بیٹے کی چادر نئی تھی، جب ہم مکہ کے اوپر والے یا نیچے والے حصے پر آئے تو ہم ایک نوجوان عورت سے ملے۔ ہم نے کہا: ”کیا آپ سے ہم میں سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے، یعنی نکاحِ متعہ کر سکتا ہے؟“ اس نے کہا: ”تم دونوں کیا خرچ کرو گے؟“ تو دونوں نے اپنی چادریں بچھا دیں، وہ دونوں مردوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جب اس نے میرے ساتھی کو دیکھا تو اس کی نظر پھر گئی، وہ کہنے لگا کہ اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی ہے، عمدہ ہے، تو وہ کہنے لگی: ”اس کی چادر میں کوئی خرابی نہیں ہے“، دو یا تین مرتبہ اس نے یہی کہا، پھر میں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور حرمت تک بھی اس کے پاس رہا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14150
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»