حدیث نمبر: 14166
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاذَا صَنَعْتَ؟ ذَهَبَتِ الرَّكَائِبُ بِفُتْيَاكَ، وَقَالَ فِيهِ الشُّعَرَاءُ، فَقَالَ: وَمَا قَالُوا؟ قَالَ: قَالَ الشَّاعِرُ:.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ نے کیا کیا کہ سواریاں آپ کے فتویٰ کی وجہ سے چلی گئیں۔ اور شعراء نے بات کی تو فرماتے ہیں: شعراء نے کیا کہا ہے؟ فرمانے لگے کہ شعراء کہتے ہیں: ”میں نے شیخ سے کہا، جب مجلس لمبی ہوگئی، اے آواز دینے والے! کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتویٰ میں تیرے لیے کچھ ہے۔“
”اے چیخنے والے! کیا تیرے لیے سفید رنگ کی نازک اندام عورت ہے کہ تو لوگوں کے چلنے تک اس کے پاس جگہ پکڑے۔“
(ب) ابو خالد منہال سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے کہا جب مجلس لمبی ہوئی اور دوسرے شعر میں کہا کہ کیا آپ نے قریبی رشتہ دار جوان لڑکی میں اجازت دی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا تو یہ ارادہ ہی نہ تھا اور نہ ہی میں نے متعہ کا فتویٰ دیا ہے۔ متعہ تو صرف مجبور آدمی کے لیے حلال ہے، اس کی حیثیت تو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14166
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»