کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حلالہ کرنے والے کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عُمَرَ قَالَ: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت کی ہے۔“
حدیث نمبر: 14184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَأُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لُعِنَ الْمُحَلِّلُ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اسماعیل کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ حدیث مرفوع نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”حلالہ کرنے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“
حدیث نمبر: 14185
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ أَبُو أَحْمَدَ، ثنا سُفْيَانُ، ح ⦗٣٣٩⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُوْتَصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِي رِوَايَةِ الزُّبَيْرِيِّ: الْمَوْشُومَةَ، وَقَالَ الْمَوْصُولَةَ، وَقَالَ مُطْعِمَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہذیل بن شرحبیل رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اس عورت پر لعنت فرمائی جو سر میں مصنوعی بال لگاتی ہے اور جو لگواتی ہے، جو سرمہ بھرتی اور بھرواتی ہے اور سود کھانے اور کھلانے والے پر، حلالہ کرنے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے“ اور زبیری کی روایت میں ہے کہ سرمہ بھروانے والی عورت پر بھی لعنت فرمائی اور فرمایا: ”بال لگوانے والی اور اس کو کھلانے والے پر بھی لعنت ہے۔“
حدیث نمبر: 14186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ حلالہ کرنے اور کروانے والے پر لعنت کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 14187
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: قَالَ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو الْمُصْعَبِ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: " الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللهُ الْمُحَلِّلُ وَالْمُحَلَّلَ، لَهُ "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ادھار لائے گئے سانڈ کے بارے میں بیان نہ کروں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلالہ کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“
حدیث نمبر: 14188
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
مشرح بن ہاعان، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14189
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا أَخٌ لَهُ عَنْ غَيْرِ مُؤَامَرَةٍ مِنْهُ لِيُحِلَّهَا لِأَخِيهِ لَهُ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ قَالَ: " لَا إِلَّا نِكَاحَ رَغْبَةٍ، كُنَّا نَعُدُّ هَذَا سِفَاحًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، تو اس کے بھائی نے بغیر مشورہ کے اس عورت سے شادی کر لی تاکہ اسے اپنے بھائی کے لیے حلال کر دے۔ کیا وہ پہلے کے لیے حلال ہے؟ فرمانے لگے: نہیں، مگر نکاح رغبت سے ہو۔ وگرنہ اس نکاح کو ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں زنا شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14190
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٣٤٠⦘ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ تَحْلِيلِ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا فَقَالَ: " ذَاكَ السِّفَاحُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الملک بن مغیرہ بن نوفل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے عورت کو خاوند کے لیے حلال کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ زنا ہے۔
حدیث نمبر: 14191
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا أُوتَى بِمُحَلِّلٍ وَلَا مُحَلَّلٍ لَهُ إِلَّا رَجَمْتُهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو حلالہ کرنے اور کروانے والا میرے پاس لایا گیا، میں ان دونوں کو ہی رجم کر دوں گا۔
حدیث نمبر: 14192
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ التُّجِيبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ وَقَدْ رَكِبَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنِّي الْآنَ مُسْتَعْجِلٌ فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَرْكَبَ خَلْفِي حَتَّى تَقْضِيَ حَاجَتَكَ، فَرَكِبَ خَلْفَهُ فَقَالَ: إِنَّ جَارًا لِي طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي غَضَبِهِ وَلَقِيَ شِدَّةً، فَأَرَدْتُ أَنْ أَحْتَسِبَ بِنَفْسِي وَمَالِي فَأَتَزَوَّجُهَا ثُمَّ أَبْتَنِي بِهَا ثُمَّ أُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: " لَا تَنْكِحْهَا إِلَّا نِكَاحَ رَغْبَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابومرزوق تجیبی فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ان کے پاس آیا اور وہ سوار تھے، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے آپ سے کام ہے، آپ نے فرمایا: مجھے جلدی ہے، اگر آپ میرے پیچھے سوار ہو جائیں اور میں آپ کی ضرورت پوری کر دوں گا، وہ شخص آپ کے پیچھے سوار ہو گیا، اس نے کہا: میرے ہمسائے نے اپنی بیوی کو غصے میں طلاق دے دی ہے، اب وہ پریشان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نفس اور مال کو روکے رکھوں، پھر میں نے اس عورت سے شادی کر لی تاکہ وہ پہلے خاوند کے پاس واپس چلی جائے، تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: رغبت سے نکاح کرو، وگرنہ درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، وَمُعَلَّى قَالَا: أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُفِعَ إِلَيْهِ أَمْرُ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِيُحِلَّهَا لِزَوْجِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: " لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِ إِلَّا بِنِكَاحِ رَغْبَةٍ غَيْرِ دَلِسَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کا معاملہ لایا گیا، جس نے کسی عورت سے نکاح اس غرض سے کیا تھا کہ اس کے خاوند کے لیے حلال کر دے تو انہوں نے دونوں میں تفریق پیدا کر دی اور فرمایا: رغبت سے نکاح کرو اس کو اندھیرے میں رکھے بغیر۔
حدیث نمبر: 14194
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ، حَدَّثَهُمْ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَتَزَوَّجُهَا لِيُحِلَّهَا لَهُ فَهَذَا الْمُحَلِّلُ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ فَلَا يَنْبَغِي "، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ اس سے شادی اس غرض سے کرے کہ وہ پہلے کے لیے حلال کرے، تو یہ حلال کرنے اور کروانے والے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔