کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمَالِكٌ، وَغَيْرُهُمَا أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ لِلنَّاسِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " وَقَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ رَأْسِي قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " ⦗٢٣٠⦘ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ وَحَدِيثُ الشَّافِعِيِّ وَيَحْيَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ وَقَدَّمَا سُؤَالَ الْحَلْقِ عَلَى سُؤَالِ النَّحْرِ، وَلَمْ يَقُولَا رَأْسِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى كُلُّهُمْ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع والے سال لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے، لوگ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں۔“ دوسرے نے کہا: مجھے علم نہیں تھا، میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ذبح کر لے، کوئی حرج نہیں۔“ کہتے ہیں کہ اس دن نبی ﷺ سے کسی بھی کام کی تقدیم یا تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے یہی جواب دیا: ”کر لے، کوئی حرج نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ⦗٢٣١⦘ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ثُمَّ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ بُلْبُلٌ: هَذَا مِمَّا حَفِظْتَ مِنَ الزُّهْرِيِّ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ كَأَنَّكَ تَسْمَعْهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُطِيلُهُ فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ بُلْبُلًا قَالَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ قَالَ: إِنَّكَ قُلْتَ لَهُ: لَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَالَ سُفْيَانُ: صَدَقَ ابْنُ مَهْدِيٍّ لَمْ أَحْفَظْهُ بِطُولِهِ فَأَمَّا هَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ دُونَ قِصَّةِ بُلْبُلٍ، وَرَوَاهُ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَحَالَ بِمَتْنِهِ عَلَى رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ سِوَى مَا اسْتَثْنَاهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ زِيَادَةٌ أُخْرَى لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی بات نہیں۔“ ایک دوسرے نے کہا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ذبح کر لے، کوئی حرج نہیں۔“
شافعی اور یحییٰ کی حدیث کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں، مگر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے، لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ (شافعی اور یحییٰ) ان دونوں نے حلق والے سوال کو نحر والے سوال پر مقدم کیا اور اس کا لفظ نہیں کہا۔
شافعی اور یحییٰ کی حدیث کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں، مگر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے، لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے۔ (شافعی اور یحییٰ) ان دونوں نے حلق والے سوال کو نحر والے سوال پر مقدم کیا اور اس کا لفظ نہیں کہا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ: " انْحَرْ وَلَا حَرَجَ " قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ أَوْ أَخَّرَهُ إِلَّا قَالَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِزِيَادَةٍ أُخْرَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈانا ہے تو میں نے ایسا ہی کر لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر اور کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسرا آدمی آیا اور پوچھا: میں سمجھتا تھا کہ سر منڈانا قربانی سے پہلے ہے تو میں نے ایسا ہی کر لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کر لے کوئی بات نہیں“، کہتے ہیں کہ اس دن نبی ﷺ سے کسی بھی کام کو پہلے یا بعد میں کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کر لے کوئی بات نہیں“۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " وَأَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ⦗٢٣٢⦘ ارْمِ وَلَا حَرَجَ " وَأَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی نحر والے دن آیا جب کہ آپ ﷺ جمرہ کے پاس کھڑے تھے، اس نے کہا: میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسرا آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں“، ایک اور آیا، اس نے کہا: میں نے رمی کرنے سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں“، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سوال کرنے والوں کو آپ ﷺ کا یہی جواب دیتے سنا ہے، یعنی: ”کر لے، کوئی حرج نہیں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، فَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ بَهْزٍ، عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو قربانی، سر منڈانے، رمی کرنے اور تقدیم و تاخیر کے بارے میں کہا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، وَقَالَ رَجُلٌ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَلَا التَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ: " وَلَا حَرَجَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے حجِ وداع میں پوچھا گیا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ آپ ﷺ سے اس دن تقدیم و تاخیر کے بارے میں جس چیز کا سوال بھی کیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَقَالَ آخَرُ: إِنِّي رَمَيْتُ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَمَا عَلِمْتُهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ: " لَا حَرَجَ " وَلَمْ يَأْمُرْ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَةِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ تو اس دن آپ ﷺ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اور کسی کفارے کا حکم نہیں دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوَ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے قربانی سے پہلے سر منڈایا، اسی طرح کی کوئی اور بات پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَزَادَ فِي مَتْنِهِ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر، کوئی حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کرلے، کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے رمی سے پہلے زیارت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ فِي الْبَاقِي، فَقَالَ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: " لَا حَرَجَ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ رمی کر کے لوگوں کے لیے بیٹھ گئے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے نحر کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ پھر دوسرا آیا تو اس نے کہا: میں نے رمی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ ”کوئی حرج نہیں۔“
وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ رَمَى قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَحَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ وَذَبَحَ قَبْلَ أَنْ ⦗٢٣٤⦘ يَحْلِقَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَقَدْ أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى رِوَايَةِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے رمی سے پہلے سر منڈایا یا سر منڈانے سے پہلے رمی کر لی یا سر منڈانے سے پہلے ذبح کر لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کر لے، کوئی حرج نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مُقَاتِلٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ قَوْمٍ حَلَقُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَذْبَحُوا، قَالَ: " أَخْطَأْتُمُ السُّنَّةَ وَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مقاتل کہتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا جنہوں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا تو انہوں نے فرمایا: تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، تم پر کوئی جرمانہ نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَسَنُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَدَّمَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا، أَوْ أَخَّرَهُ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے مناسک میں سے کوئی کام پہلے یا بعد میں کر لیا اس پر کوئی چیز نہیں۔“