السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، وَقَالَ رَجُلٌ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ: " لَا حَرَجَ "، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَلَا التَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ: " وَلَا حَرَجَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے حجِ وداع میں پوچھا گیا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ آپ ﷺ سے اس دن تقدیم و تاخیر کے بارے میں جس چیز کا سوال بھی کیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“