أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى "، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيُذْكَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: رَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ: أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللهِ يُرِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یومِ نحر کو افاضہ کیا، پھر واپس آئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی۔
نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما یومِ نحر کو افاضہ کرتے، پھر واپس آ کر ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھتے اور ذکر کرتے کہ نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔
نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما یومِ نحر کو افاضہ کرتے، پھر واپس آ کر ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھتے اور ذکر کرتے کہ نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِإِسْنَادِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَمَى الْجَمْرَةَ رَجَعَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ، ثُمَّ حَلَقَ، ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ فَوْرِهِ ذَلِكَ ⦗٢٣٥⦘ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں، پھر آپ ﷺ بیت اللہ کی طرف لوٹے اور ظہر مکہ میں ادا کی۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے مراسیل میں اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رمیِ جمار سے فارغ ہوئے تو منحر کی طرف واپس پلٹ آئے، پھر آپ نے نحر (قربانی) کی، پھر سر منڈوایا، پھر اسی طرح (اسی حالت میں) وہاں سے واپس آئے۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوالزبیر رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طوافِ زیارت کو رات تک مؤخر کیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے مراسیل میں اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رمیِ جمار سے فارغ ہوئے تو منحر کی طرف واپس پلٹ آئے، پھر آپ نے نحر (قربانی) کی، پھر سر منڈوایا، پھر اسی طرح (اسی حالت میں) وہاں سے واپس آئے۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوالزبیر رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طوافِ زیارت کو رات تک مؤخر کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: ثنا، وَقَالَ أَبُو نَصْرٍ: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الزِّيَارَةَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، نبی ﷺ نے یومِ نحر کو رات تک زیارت مؤخر کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ " وَأَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَفِي سَمَاعِهِ مِنْ عَائِشَةَ نَظَرٌ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ. وَقَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْنَا يَوْمَ النَّحْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے یومِ نحر کو طوافِ زیارت رات تک مؤخر کیا۔
(ب) ابوسلمہ کی حدیث میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم نے یومِ نحر کو ہی افاضہ کرلیا تھا۔
ابوالزبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے سماع میں کلام ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
(ب) ابوسلمہ کی حدیث میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا تو ہم نے یومِ نحر کو ہی افاضہ کرلیا تھا۔
ابوالزبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے سماع میں کلام ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِأَصْحَابِهِ فَزَارُوا الْبَيْتَ يَوْمَ النَّحْرِ ظَهِيرَةً، وَزَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نِسَائِهِ لَيْلًا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو اجازت دی تو انہوں نے بیت اللہ کی زیارت دوپہر کے وقت کی اور آپ ﷺ نے اپنی بیویوں سمیت رات کو زیارت کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ مِنَ اللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یومِ نحر کا طواف رات کو کیا۔
قَالَ: وَأنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَهُ. وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نَاقَتِهِ لَيْلًا، وَأَصَحُّ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ حَدِيثُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اس قول کی طرف گئے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی اونٹنی پر (سوار ہو کر) رات کے وقت طواف کیا لیکن ان روایات میں سے صحیح ترین روایات نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما اور جابر رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی احادیث ہیں۔ واللہ اعلم۔
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اس قول کی طرف گئے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی اونٹنی پر (سوار ہو کر) رات کے وقت طواف کیا لیکن ان روایات میں سے صحیح ترین روایات نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما اور جابر رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی احادیث ہیں۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّهُ أَتَى مَنْزِلَهُ مِنْ مِنًى فَبَاتَ ⦗٢٣٦⦘ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ وَطَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ أَتَى مَنْزِلَهُ مِنْ عَرَفَةَ، فَوَقَفَ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَفَاضَ فَأَتَى مَنْزِلَهُ مِنْ جَمْعٍ فَبَاتَ بِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ وَقْتُ صَلَاةِ الْمُعَجَّلَةِ وَقَفَ حَتَّى إِذَا كَانَ قَدْرُ صَلَاةِ الْمُسْفِرَةِ أَفَاضَ وَتِلْكَ مِلَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَدْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّبِعَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام منیٰ میں اپنی جگہ پر آئے، وہیں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہو گئی اور سورج طلوع ہوا تو عرفہ میں اپنی جگہ پر آئے، وہیں ٹھہرے حتیٰ کہ جب سورج غروب ہو گیا لوٹے اور جمع میں اپنی جگہ پر آئے، وہیں رات گزاری حتیٰ کہ جب «صَلَاةُ الْمُعَجَّلَةِ» ”جلد پڑھی جانے والی نماز“ کا وقت آیا تو ٹھہرے حتیٰ کہ «صَلَاةُ الْمُسْفِرَةِ» ”روشنی میں پڑھی جانے والی نماز“ کا وقت آیا تو لوٹے اور یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے اور تمہارے نبی ﷺ کو ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، ثُمَّ وَقَفَ إِلَى صَلَاةِ الْمُصْبِحَةِ فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [النحل: ١٢٣].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اسی طرح کی حدیث بیان کی، پھر صبح کی نماز تک ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی طرف وحی کی کہ ﴿ملت ابراہیم کی پیروی کر جو یکسو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا﴾ [سورة النحل: 123]۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " أَفَاضَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ غَدَا مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ، ثُمَّ وَقَفَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَنَزَلَ بِهَا فَبَاتَ، ثُمَّ صَلَّى بِهَا يَعْنِي الصُّبْحَ كَأَعْجَلَ مَا يُصَلِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ وَقَفَ بِهِ كَأَبْطَأِ مَا يُصَلِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ دَفَعَ إِلَى مِنًى فَرَمَى وَذَبَحَ وَحَلَقَ، ثُمَّ أَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [النحل: ١٢٣] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو منیٰ لے کر گئے، وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں ادا کیں، پھر منیٰ سے عرفات آئے، وہاں دو نمازیں ادا کیں، پھر ٹھہرے رہے حتیٰ کہ سورج غائب ہو گیا، پھر ان کو مزدلفہ میں لائے، وہیں رات گزاری اور صبح کی نماز پڑھی، جس طرح مسلمان جلدی پڑھتے ہیں، پھر وہیں ٹھہرے جس طرح مسلمان تاخیر سے نماز پڑھتے ہیں، پھر منیٰ گئے، رمی کی، قربانی کی اور سر منڈایا، پھر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی طرف وحی کی کہ ﴿ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا﴾ [سورة النحل: 123]۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ثُمَّ حَلَقَ ثُمَّ أَفَاضَ بِهِ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [النحل: ١٢٣].
حافظ ثناء اللہ
ایضاً، اس میں یہ ہے: پھر سر منڈایا، پھر انہیں بیت اللہ کی طرف لے گئے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا﴾ [سورة النحل: 123]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ: " ثُمَّ أَتَى بِهِ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ رَجَعَ بِهِ إِلَى مِنًى فَأَقَامَ فِيهَا تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ أَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [النحل: ١٢٣] " وَالْمَوْقُوفُ أَصَوْبُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند کے ساتھ اس کے ہم معنی مرفوع روایت منقول ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر وہ انہیں (ابراہیم علیہ السلام کو) بیت اللہ کے پاس لائے تو انہوں نے اس کا طواف کیا۔ پھر انہیں واپس منیٰ لے گئے تو انہوں نے وہاں وہ دن گزارے، پھر اللہ نے محمد ﷺ کی طرف وحی کی: ﴿أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة النحل: 123] زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ⦗٢٣٧⦘ وَرَمْيُ الْجِمَارِ؛ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَرَوَاهُ أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ يَرْفَعُهُ وَلَكِنِّي أَهَابُهُ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، وَأَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فَرَفَعَاهُ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرَوَاهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور رمیِ جمار اللہ کے ذکر کی خاطر ہیں۔“