السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مُقَاتِلٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ قَوْمٍ حَلَقُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَذْبَحُوا، قَالَ: " أَخْطَأْتُمُ السُّنَّةَ وَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
مقاتل کہتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا جنہوں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا تو انہوں نے فرمایا: تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، تم پر کوئی جرمانہ نہیں۔