السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9628
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَزَادَ فِي مَتْنِهِ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " لَا حَرَجَ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمی کر، کوئی حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کرلے، کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے رمی سے پہلے زیارت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“۔